حیدرآباد سائٹ میں سہولتوں کے فقدان اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لئے سنگین مسائل پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار
حیدرآباد(گردو پیش )حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے بانی چیئرمین مظہر الحق چوہدری نے حیدرآباد سائٹ میں سہولتوں کے فقدان اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لئے سنگین مسائل پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سندھ سائٹ لمیٹڈ کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ سائٹ کے حقیقی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر نکاسی آب کے نظام کی مکمل بحالی سمیت مسائل کے حل کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
ایک بیان میں مظہر الحق چوہدری نے کہا کہ سائٹ حیدرآباد میں واٹر سپلائی چارجز میں 10 سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا سائٹ لمیٹڈ کی انتظامیہ بہت زیادہ اضافہ کرنا چاہتی تھی مگر ہم نے بات چیت کر کے اسے 150 روپے فی ہزار گیلن کے معقول نرخ مقرر کرنے پر آمادہ کیا کیونکہ واسا کے پانی کے نرخ 250 روپے فی ہزار گیلن ہیں اور کوٹری کے صنعتکار اور تاجر پہلے ہی 150 روپے کے نرخ برداشت کر رہے ہیں لیکن ہم نے واٹر چارجز بڑھنے نہیں دیئے تھے، مظہر الحق چوہدری نے کہا کہ سائٹ حیدرآباد میں کسی کو پانی کی قلت کا مسئلہ ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے پانی کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ صنعتی تجارتی شعبے کے حالات بہت خراب ہیں سائٹ میں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے، نکاسی آب کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے چوک ہے اور بارشوں کا پانی فیکٹریوں میں بھر جاتا ہے، گذشتہ سالوں میں کارخانوں میں پانی بھر جانے سے بھاری مالی نقصان ہو چکا ہے، اب جب بارشوں کا موسم شروع ہو چکا ہے تو بھی یہ خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے، انہوں نے کہا یہ بھی افسوسناک پہلو ہے خود صنعتوں کے کئی مالکان نے نکاسی آب کے نالے بند کر دیئے ہیں جو موجود ہیں ان میں صنعتوں کا کچرہ پھینکنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے جب کہ صفائی کا کوئی نظام نہیں ہے اور نالے کچرے اور کیچڑ سے اٹے ہوئے ہیں، اتنے وسیع صنعتی علاقے کا پانی ایک پائپ لائن سے کیسے نکل سکتا ہے، نکاسی آب کے نظام کی بحالی، صفائی اور مرمت کا کام فوری معیاری طوری فوری کرایا جائے تاکہ بارشوں میں کسی بڑے نقصان سے بچا سکے، مظہرالحق چوہدری نے کہا کہ ماضی کے قبضہ گروپ کے برعکس ایوان صنعت و تجارت حیدرآباد کے ذمہ داروں نے سائٹ کے مسائل اجاگر کرنے کا مثبت قدم اٹھایا ہے لیکن یہ بھی افسوسناک پہلو ہے کہ سائٹ حیدرآباد میں 4 سڑکیں سرے سے ابھی تعمیر ہی نہیں ہوئیں ان کے کروڑوں کے بلوں کی ادائیگی کرا دی گئی ہے اس بھاری نقصان کا کون ذمہ دار ہے، اس سلسلے میں جلد ایف آئی اے کو لکھا جائے گا تاکہ تحقیقات ہو اور ملوث افراد کو سزا مل سکے، انہوں نے کہا کہ سندھ سائٹ لمیٹڈ کی انتظامیہ کو سائٹ حیدرآباد کے حقیقی نمائندوں سے رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ صنعتکار برادری کے مسائل باہمی مشاورت سے بہتر طور پرحل کئے جا سکیں، مظہر الحق چوہدری نے کہا کہ صنعتکار اور تاجر برادری اب متحد ہے وہ کسی قبضہ گروپ کو اب اپنی صفوں میں برداشت نہیں کرے گی۔



