محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی اسکولوں کی عمارتیں اورفرنیچرخستہ حالی کاشکار
ٹنڈوادم (گردوپیش ) محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی کے باعث اسکولوں کی عمارتیں فرنیچر خستہ حال بن گئی ہے 2022 اور 23 کا سالانہ ایس ایم سی فنڈز 6000 روپےجبکہ مذکورہ فنڈز سے اسکول کی ضروریات کیلئے ناکافی ہے بھی تاحال جاری نہیں ہو سکے ہیں جبکہ طلبہ وطالبات کو نصابی کتب اودو میڈیم 80 فیصد جبکہ سندھی میڈیم 50 فیصد تک کم فراہم ہونے شکایت کا ازالہ بھی تاحال نہیں ہو سکا ہے گورنمنٹ شاہ عبد الطیف ہائی سکول کے 28 روم اور فرنیچر میں سے اکثر انتہائی خستہ کا منظر پیش کر رہے ہیں اسکول میں 2000 بچے زیر تعلیم ہیں ضروری سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور سخت ترین گرمی میں اساتذہ ڈیوٹی دینے اور طلبہ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے پانی کے نلکے روٹر بنوائے دیگر ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں اساتذہ اکرام نے کہا کہ ضلع سانگھڑ معدنیات سے مالا مال ہے ائل اینڈ گیس ویلفیئر کے فنڈز سے صحت اور تعلیمی اداروں کے مسائل فرش بندی کے ساتھ ساتھ حل کر سکتے ہیں اسکول رومز فرنیچر کی تعمیرات پانی اور سولر انرجی سے بجلی کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتاھے



