وفاقی حکومت کوسکھرحیدرآبادموٹر ویز پر کام شروع کردیناچاہیے: مقبول باقر
حیدرآباد(گردو پیش) نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس(ر) مقبول باقرنے وفاقی حکومت پر زور دیاہے کہ حیدرآباد سکھرموٹرویز (ایم 6) پرکام شروع ہوناچاہئے جہاں زمین کے حصول کے مسائل حل ہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ میں جانتاہوں ( ایم 6 )پر تعمیراتی کام اس وقت روک دیا گیا جب زمین کے حصول کے اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا اب کمشنر کے ماتحت کمیٹی نے ایک مشترکہ ڈیجیٹل سروے کے ذریعے زمین کے حصول کا عمل مکمل کر لیا ہے لہٰذا اس پر کام شروع کیا جانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو سیہون میں ڈی سی جامشورو کیمپ میں حیدرآباد ڈویژنل انتظامیہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس میں وزیر آبپاشی ایشور لعل، چیف سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم، کمشنر کراچی خالد حیدر شاہ، سیکریٹری آبپاشی نیاز عباسی، سیکریٹری ورکس نواز سوہو، ڈی آئی جی حیدرآباد طارق دھاریجو، سی ای او پیپلز ہاؤسنگ برائے سیلاب متاثرین اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
کمشنر حیدرآباد خالد حیدر شاہ نے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو زیر تعمیر حیدرآباد سکھر موٹر وے (ایم 6) پرہونے والے ترقیاتی کام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی لمبائی 396 کلومیٹرہے جس میں 105 کلومیٹر حیدرآباد ڈویژن کا کچھ حصہ بھی شامل ہے,حیدرآباد ڈویژن میں کل 2,428 ایکڑ اراضی کی ضرورت ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ فنڈز کے غبن کی وجہ سےایم6 کی زمین کے حصول کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا تھا,اہم اصلاحات کے بعد کام کو نئے سرے سے دوبارہ شروع کیا گیا ۔کمشنر حیدرآباد کے تحت ایک کمیٹی نے ڈیجیٹل کوآرڈینیٹس کے ساتھ مشترکہ سروے / نئی حد بندی مکمل کی ہے۔کمشنر نے کہا کہ مٹیاری کا صرف ایک حصہ مکمل ہونا باقی ہے,اس پر نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کے حل کے حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کریں اور ایم 6 پر معطل کام دوبارہ شروع کریں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے ڈویژنل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ عام انتخابات کو سہل بنانے، بجلی چوری کے خلاف مہم کو مستحکم بنانے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف آپریشن تیز کریں ۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے ڈویژنل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زمین کے حصول اور ٹریفک کی روانی کو بہتر کرنے کے تمام منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کویقینی بنایا جائے,شہری مراکز میں خاص طورپر پارکوں اور کھیل کے میدان کو تقویت دینے کے لیے پارکنگ اور انفراسٹرکچر کے مسائل کو حل کیاجائے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام اور پولیو کے خاتمے کے لیے نیشنل ایمرجنسی ایکشن کے تحت تعاون کویقینی بنائیں،
ڈی آئی جی حیدرآباد طارق دھاریجو نے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو مجموعی امن و امان پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دائرہ کار میں نو اضلاع ہیں جن میں 42 پولیس سب ڈویژنز اور 156 تھانے ہیں۔ 10 ایس ایس پیز سمیت پولیس فورس کی کل تعداد 18529 ہے۔
درج کرائمز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف 2761 مقدمات درج ہوئے جن میں 1883 ملزمان کے خلاف چالان کاٹے گئے جن میں سے 33 کو سزا، 331 کو بری اور 1482 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 2023 میں اب تک جائیداد کے تنازع پر جرائم کے 1908 مقدمات درج ہوئے ہیں جن میں سے 1124 کے چالان کاٹے گئے۔ عدالتوں نے 21 کو سزا سنائی، 186 کو بری اور 916 مقدمات ابھی تک زیر سماعت ہیں۔ اسی طرح لوکل اور اسپیشل لاء کے 5675 مقدمات درج کیے گئے جن میں سے 5454 کو چیلنج کیا گیا ، جن میں سے 259 کو سزا سنائی گئی، 1356 کو بری کیا گیا اور 3636 مقدمات زیر سماعت ہیں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ پورے حیدرآباد ڈویژن میں گٹکا اور مین پوری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2023 میں گٹکا مین پوری ایکٹ 2019 کے قانون کے تحت 2701 مقدمات درج کیے گئے اور 3924 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 2793 ملین روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
چیف انجینئر ایریگیشن سردار شاہ نے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 361 نالے ہیں جن میں سکھر بیراج کمانڈ ایریا اور کوٹری بیراج کمانڈ246 ، سکھر اور کوٹری بیراج کمانڈ (ایل بی او ڈی) 110اور پانچ گڈو بیراج کمانڈ سمیت نالوں کی کل لمبائی 4970 میل لمبائی ہے۔آر بی او ڈی ٹو RBOD-II کا 2773 کلومیٹر زیر تعمیرہے۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ2022 ککے سیلاب کی بڑی تباہی کا باعث موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بننے والے عوامل ، کیرتھر رینج سے کوہ سلیمان بگٹی رینج کےبے مثال پہاڑی طوفان، شدید بارشیں جو کہ گزشتہ 62 سالوں کی نسبت میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، دریاؤں کا تیز بہاؤ شامل ہیں۔ دریائے سندھ کی سیلابی صورتحال ، RBOD-III اور منچھر جھیل کے نظام کی محدود صلاحیت اور RBOD-II کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصانات ہوئیں۔نگراں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ سکھر بیراج رائٹ بینک ریجن لاڑکانہ کے تحت شہباز ڈویژن میں 10 کام دسمبر 2023 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔
سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز (ایس پی ایچ ایف اے) خالد شیخ نے کہا کہ 2022 کی شدید بارشوں سے صوبے کا 70 فیصد حصہ ڈوب گیا، اس لیے حکومت نے 30 میں سے 24 اضلاع کو آفت زدہ علاقوں قرار دیاتھا۔ مجموعی طور پر 12.36 ملین افراد متاثر ہوئے اور 2.1 ملین مکانات تباہ ہوئے۔خالد شیخ نے کہا کہ تباہ شدہ مکانات میں سے 50 فیصدمکانات سرکاری زمین پر ، 31 فیصد نجی ملکیتی اراضی پر اور 19 فیصدعام اراضی پر واقع ہیں۔ اس لیے سندھ حکومت نے سرکاری زمین پر رہنے والے لوگوں کو مکانات لیز پر دینے کا فیصلہ کیا۔
ضلع جامشورو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خالدشیخ نے کہا کہ 60,609 مکانات کو نقصان پہنچا جن میں سے 30,319 سہون میں، 15,577 کوٹری اور 4,715 تھانو بولا خان کے ہیں ۔
ایک دلچسپ ڈیٹا کے تحت سی ای او ایس پی ایچ ایف نے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گھروں کی تعمیر نو کے لیے 596,793 خواتین گھرانوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے 121,817 بیوہ، 34,382 بے سہارا /بزرگ خواتین، 4250 معذور شوہروں والی خواتین اور 3020 طلاق یافتہ/ خلع شدہ/ غیر شادی شدہ بوڑھی خواتین جو دوسروں پر انحصار کرتی تھیں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جون 2024 میں 600,000 مکانات مکمل ہو جائیں گے۔نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے ولی گینچو کا دورہ کیا جہاں 60 مکانات زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے خواتین سے ملاقاتیں کیں اور پھر سہون قلعہ میں منعقدہ ایک تقریب میں انہوں نے ان کے گھروں کی سندیں ان کے حوالے کیں۔
دورے: نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے دیہی مرکز صحت (RHC) آرازضی کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود مریضوں سے بات کی۔ انہوں نے جان بچانے والی ادویات کی قلت اور سانپوں کے زہر کا خاتمہ کرنے والی سیریم اور اینٹی ریبیڈ ڈاگ ویکسین کی عدم دستیابی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔جہاں ان کی ایکسرے مشین ناکارہ اور ہسپتال کی حالت ابتر کافی ابتر تھی۔
انہیں بتایا گیا کہ آر ایچ سی کا انتظام پی پی ایچ آئی کر رہا ہے اور انہوں نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی جو ان کے ساتھ تھے پی پی ایچ آئی انتظامیہ سے بات کریں اور مسائل حل کریں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے گاؤں غلام نبی چھوٹو سے ہادی بخش چھوٹو گاؤں تک 3.2 کلومیٹر زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کیا جہاں سیکرٹری ورکس نواز سوہو نے انہیں کام کی رفتار اور معیار کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے ولی گینچو گاؤں کو مین ہائی وے سے ملانے والی 2.4 کلومیٹر سڑک کا بھی معائنہ کیا۔نگراں وزیراعلیٰ سندھ ارال واہ ہیڈ گئے جہاں بحالی کا کام جاری تھا۔ انہوں نے سیکرٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ کام کے معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے سید عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے دورے کے دوران اس کی ایمرجنسی، آئی سی یو، وینٹی لیٹرز اور چار آپریشن تھیٹرز کا معائنہ کیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ وہاں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر معین الدین صدیقی کو اسے جاری رکھنے کی ہدایت کی۔سہون کے دورے کے آغاز پر نگراں وزیر اعلیٰ سندھ مقبول باقر نے لعل شہباز قلندر کے مزار پر جا کر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی




