حکومت سندھ کی جانب سے گندم کانرخ 3900سوروپے مقررہونے کے باوجودزمینداروں کوبارادانی نہیں دیئے گئے ہیں
حیدرآباد(گردوپیش)حکومت سندھ کی جانب سے گندم کانرخ 3900سوروپے مقررہونے کے باوجودزمینداروں کوبارادانی نہیں دیئے گئے ہیں،گودام انتظامیہ نے فی باردانہ 500روپے کی ڈیمانڈ کردی،دوسری جانب بلیک مارکیٹ میں گندم کا نرخ 3500تک آن پہنچا کسان پریشان آٹے کی قیمت میں کو ئی کمی نہیں ہو ئی،

گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سندھ میں گندم وافرمقدار میں کاشت کی گئی ہے اورحکومت سندھ کی جانب سے گندم کا سرکاری نرخ 3900مقررکیاگیاہے تاہم مارکیٹ میں گندم کا خریدار نہیں ہے بیوپاری غریب کسانوں سے گندم 3400سے 3500روپے فی من خریدنے لگے ہیں،زمینداروں کاکہنا ہے کہ ایک جانب گندم کا نرخ کم مقررہواہے تو دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب ہرسال کی طرح اس سال بھی گندم خریدار مراکز تاخیر سے کھولے گئے ہیں،گندم کے وافرمقدار میں کاشت کے باعث بلیک مارکیٹ میں گندم کم نرخ میں خریدی جا رہی ہے،جس سے انہیں سخت پریشانی اوربھاری نقصانات کا سامنا ہے،انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کی جانب کہیں بھی رٹ نظرنہیں آتی ہے،

،کیونکہ خریف کی فصل کے کاشت کا عمل شروع ہوگیا ہے اور انہیں تاحال باردانے نہیں فراہم کیئے گئے ہیں بلکہ گودام انتظامیہ سے زمینداروں سے فی باردانہ 500روپے رشوت طلب کیا جارہاہے،زمیندار ں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال گندم بڑے مقدار میں کاشت کی تاکہ ملک میں گندم کی قلت نہ رہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے 3900 مقررکردہ نرخ اور رویہ نے انہیں سخت مایوس کیا ہے اگر یہ رویہ رہاتوزمیندارخریف کے فصل کے بعد گندم کی جگہ سرسوں کی کاشت کریں گے،کاشتکاروں کاکہناہے کہ گزشتہ سال جب انہوں نے گندم کاشت کی توکھاد کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیاتھا اور یوریاDAPبلیک مارکیٹ 14500جبکہ دیگر کھادبھی ڈیلرمن مانے نرخ میں فروخت کررہے تھے،ایسے اب گندم کسانوں سے ارزاں خریدکرانکی کمر توڑی جا رہی ہے جوکہ سخت ناانصافی ہے،بلکہ مزے کی بات یہ ہے کہ گندم کا نرخ کم ہو نے کے باوجود بھی آٹے کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو ئی ہے،ایک جانب گندم کے نرخ کم مقررکرناتودوسری جانب کھاد کی قیمتوں اضافے نے کسانوں کواس بات پر مجبورکردیا ہے کہ وہ گزشتہ سال گندم کوکاشت کرنے کے بجائے سرسوں کی کاشت کرے،




