کالم

نمل (NUML) اسلام آباد

تحریر حسن راشد

عرصہ ہوا ایک حدیث مبارکہ پڑھی تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زيد بن ثابت رضی الله تعالیٰ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ یہودیوں کی زبان سیکھیں،انھوں نے یہودیوں کی زبان لکھنا سیکھ لی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط وہ لکھ کر یہودیوں کے پاس بھیجتے تھےاور یہودیوں کے خطوط جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے وہ ان کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے۔ آپ صلى الله علیہ وسلم کا یہ فرمان چودہ سو برس قبل کا ہے اور ہر دور کے لیے ہے۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس حدیث مبارکہ پر عمل کیا تو دنیا پر بلاشرکت غیر ے حکمرانی کی۔اسی لیے سائنس کا عہدِ زریں (Golden age) مسلمانوں سے موسوم ہے۔ اس سے جدید دور میں عالم اسلام دشمن قوتوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ برصغیر کی مثال لیں تو یہاں یورپی اقوام خصوصاً انگریزوں نے اردو اور مقامی زبانیں سیکھیں اور برصغیر پر 190 سال حکومت کی۔ فورٹ ولیم کلکتہ اسی دور کی یادگار ہے انگریز نے ہماری محبت میں زبان کو فروغ نہیں، اپنے سیاسی عزائم کے لیے ہماری زبان/زبانوں کا سہارا۔ لارنس آف عربیہ نے انگریز کردار نے عربی زبان سیکھ کر خلافت ِعثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔صہیونیوں (Zionist) نے بنی اسرائیل کی زبان عبرانی کو اس رائیل کے لیے زندہ کردیا۔ یہی علم (لسانیات) ہے جس نے تہذیب وتمدن سے عاری افریقہ کے وحشی قبائل کے لیے لسانیات کی مدد سے زبان تشکیل دی اور مشنری سرگرمیوں کے ذریعے واحد مسلم اکثریتی براعظم افریقہ میں نقب لگاکر عیسائیت کو فروغ دیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے‌‌۔ آج کے دور میں ایک سے زائد زبانیں سیکھنا ضرورت سے بڑھ کر مجبوری بن گیا ہے۔ دنیاکے تمام ممالک سیاسی، سفارتی، معاشی، تعلیمی، تبلیغی، دفاعی ضرورتوں کے تحت ادارے قائم کرتے ہیں اور لوگ تیار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنے لیے چھے سرکاری زبانیں اختیار کی ہوئی ہیں اور ہر ایک کے لیے ایک ایک عالمی دن مختص ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس کے دارالحکومت میں اپنے ملک کے علاوہ دیگر اقوام کی زبانیں سیکھنے سکھانے کا ادارہ موجود نہ ہو۔ ترقی یافتہ کیا ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک بھی سرکاری پالیسی کے طور پر سرکاری لوگوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی سرکاری اور غیرسرکاری دونوں سطح پر بین الاقوامی اور طاقت ور اقوام کی زبانی سیکھنے سکھانے کا رجحان اول روز سے ہے۔ سی ایس ایس میں انگریزی لازمی کے علاوہ امیدواروں کے لیے زبان منتخب کرنے کا آپشن ہوتا ہے۔ سفارت کاروں کے لیے اس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ دفاعی اور جاسوسی مقاصد کے لیے حساس ادارے اپنا باقاعدہ نظام رکھتے ہیں۔ بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند متعلقہ ملک کی زبان سیکھتے ہیں۔ طلبہ تعلیم کے لیے کسی ایک زبان کو سیکنڈ لینگویج کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔ تبلیغ مذہب کے لیے ابلاغ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ایک ہی مذہب ایک سے زائد قوموں میں ہونے کی وجہ بھی تبلیغ ہے۔ اردو کی ابتدا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ صوفیا اور علماء نے مقامی بولیوں کا سہارا لیا تھا۔غرض زبان سیکھنا قوموں کے لیے مجبوری بن چکا ہے ۔پاکستان میں بھی ایک ایسا ادارہ نمل خاص اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد کی طرف سے ایک سرکاری کام کے سلسلے میں یہاں دورہ کیا تو بہت کچھ دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ نمل کے نام سے ملک میں اس وقت دو جامعات ہیں ایک عمران خان کی قائم کردہ نمل میانوالی میں نمک کے پہاڑی سلسلے میں NAMAL ہے۔ دوسری نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) ہے۔ یہی ہمارا موضوع ہے۔اس ادارے (انسٹی ٹیوٹ) کو وفاقی حکومت نے 1969ء میں مشرقی و مغربی زبانوں کے لیے اسلام آباد میں قائم کیا تھا جسے 2000ء میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں بدل دیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ برّی فوج کے ماتحت جامعہ ہے دیگر وفاقی جامعات کی مانند اس کے چانسلر بھی صدر پاکستان ہیں انتظامی سربراہ ریکٹر (Rector) کہلاتا ہے اور ایک میجر جنرل رینک کا ٹو اسٹار جنرل ہوتا ہے اس کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل ون اسٹار رینک کا جنرل (بریگیڈیئر) اور اسی رینک کا پرو ریکٹر (Pro-rector) ہوتا ہے۔ ملک میں اس کے نو کیمپس ہیں یہ کیمپس راول پنڈی، میرپور آزاد کشمیر، پشاور، لاہور، فیصل آباد، ملتان ،کوئٹہ ،حیدرآباد اور کراچی میں قائم ہیں ہر کیمپس کا ڈائریکٹر (بریگیڈیر) ہوتا ہے۔ نمل اسلام آباد میں اکیڈمک شعبے کو پانچ فیکلٹی انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹنگ، لینگویجز، مینجمنٹ سائنس، سوشل سائنسز، آرٹس اینڈ ہیومینٹیز اور دو انسٹی ٹیوٹ کنفوشس اور کنگ سیجونگ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ماڈرن لینگویجز اِس کی سب سے شاندار اور انفرادی اہمیت کی حامل فیکلٹی ہے۔اسے مختلف زبانوں اردو، پاکستانی زبانوں، جنوبی ایشیائی، عربی، چینی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی، کوریائی زبان و ثقافت، فارسی ،اسپینی، ترکی اور ترجمہ وتفہیم کے شعبہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کنفوشش اور کنگ سیجون انسٹی ٹیوٹ میں چینی اور کورین زبان سکھائی جاتی ہیں۔
نمل میں 30 سے زائدزبانیں جدید انداز میں سکھانے کا‌ بندوبست ہے۔ سرٹیفکیٹ ،ڈپلوما، بی ایس ،ایم ایس /ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ موسم سرما اور گرما، صبح اور شام کے اوقات میں پورے سال سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے ۔یہاں سکھائی جانے والی کسی بھی زبان کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے نہ روایتی انداز اختیار کرجاتا ہے۔ زبانوں کے جنوبی ایشیائی شعبے میں ہندی،بنگالی، بہاساانڈونیشیائی زبانیں ہیں۔ان شعبوں کے اساتذہ متعلقہ زبانوں میں انڈیا، نیپال، بنگلہ دیش، انڈونیشیا سے پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ سند کے حامل ہیں اور غیر معمولی تدریسی تجربہ کے حامل ہیں۔ نمل اسلام آباد اور اس کے ذیلی مراکز میں زبانیں سیکھنے والوں میں عام طور پر سویلین و فوجی سفارت کار، ایجنسیوں کے اہلکاروں ،بیرون ملک تعلیم کے خواہش مند امیدوار ،اندرون اور بیرون ملک ملازمت کے متلاشی افراد اور زبانیں سیکھنے کے شوقین افراد شامل ہیں۔ ترجمہ اور تفہہیم (Translation and Interpretation) دوسرا اہم ترین شعبہ ہے۔ دنیا کا کیا سوچتی ہے کیا دیکھتی ہے اور کیا معاملات اختیار کرتی ہے یہ اس شعبے میں ترجمہ وتفہیم کے ذریعے سامنے آتا ہے اس شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی مزید ضرورت ہے۔ غیروں کی زبان‌ پر مہارت ایسی ہونا چاہیے کہ ابو ریحان‌ البیرونی کی سنسکرت پر برہمن، مولانا محمد علی جوہر کی انگریزی پر انگریز بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو۔ چند سال بیشتر ہندو یونی ورسٹی بنارس میں سنسکرت کی ایک اسامی پر جب ایک مسلم پروفیسر کا تقرر کیا گیا تو انتہا پسندوں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی، انتظامیہ کی جانب سے دفاع میں کہا گیا کہ” کوئی اِن جیسا ہوتو ہمیں بھی دکھلاؤ۔“ واضح رہے کہ بنارس ہندو یونی ورسٹی بھی جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد کی مانند یونی ورسٹی سے قبل کالج تھا یہ دونوں کالج اینی بیسنٹ نے قائم کیے تھے۔ نمل کی لائبریری عمومی سہولتوں کے علاوہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں دنیا بھر کی زبانوں کے زبان‌ و ادب کا عظیم ذخیرہ موجود ہے۔ ایسی مثال پاکستان میں کہیں اور نہیں ملتی۔ آج کے جدید دور میں کمیونیکشن اہمیت اختیار کرگیا ہے ہر شخص سب کچھ نہیں کرسکتا۔ آل راؤنڈر بننے کے بجائے دل چسپی کے کسی شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے جو شخص زبانیں سیکھنے میں دل چسپی رکھتا ہے اسے اپنی پسند کی زبان سیکھنا چاہیے۔ پاک چین تعلقات اور ایک دوسرے کے مفادات کے تناظر میں چینی زبان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ میں ایک شخص سے واقف ہوئی جس نے ایم اے کے بعد چینی زبان سیکھی اور آج اچھی ملازمت اختیار کررہا ہے۔ جو نوجوان اس طرف آئیں انھیں اس سمت‌ میں ایک واضح مقصد کے تحت آنا چاہیے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر عبدالقدیر بنانے والی قوت کے پس پشت ایک سے زائد زبانوں کا علم ہی تھا۔ ہمیں سرکاری سطح پر جامعات اور خصوصاً نمل میں ترجمہ نگاری کے میدان میں انتہائی پیشہ ور لوگوں کے ذریعے سامنے آنا چاہیے اس شعبے کے ذریعے دنیا کی ہر زبان کے اعلیٰ ادب کا قومی زبان اردو میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ ہمیں اقوام عالم کاعلم ہوسکے۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی