بیٹھک /سعید آسی
لیلتہ القدر کی فضیلتیں اور ہمارے اعمال۔
ذات باری تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سّلم کے صدقے ہمیں ایک سچے کھرے اور دیانتدار قائد محمد علی جناح کے ذریعے پاکستان کی شکل میں اپنی الگ ارضِ وطن کا تحفہ ماہ رمضان المبارک کی مقدس رات لیلتہ القدر میں ودیعت کیا تھا۔ اس خطے میں بطور مسلمان ہمارا ایک الگ تشخص تسلیم ہو گیا۔ غیر منقسم ہندوستان میں ہندو بنیاء نے ہم سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کے لیئے ہماری مذہبی آزادیاں ہی سلب نہیں کی ہوئی تھیں بلکہ ہمیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں بھی جکڑ لیا تھا۔ ہم پر اچھی ملازمتوں کے دروازے بھی بند تھے اور ہمیں عملاً اچھوت کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ ہندو کی اس غلامی سے ہی نجات کے لیئے ہمارے دلوں میں آزادی کی امنگ جاگی تھی جو قائد اعظم نے کاز کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ نبھاتے ہوئے شرمندہ تعبیر کر کے دکھائی۔ ان کے صداقت و دیانتداری پر مبنی اصولوں کی بنیاد پر ہماری اسلامی جمہوری فلاحی ریاست والی منزل کا حصول ناممکن تو ہرگز نہیں تھا۔ پھر ہمارا یہ سفر کھوٹا کیونکر ہو گیا۔ ہم نے ابھی چند روز قبل پاکستان کی بنیاد قرارداد لاہور کا 85 واں سال مکمل کیا ہے۔ اور آج لیلتہ القدر کی رات ہماری آزاد و خود مختار مملکت پاکستان کی تشکیل کے بھی 77 سال پورے ہو رہے ہیں تو اس آزاد و خودمختار ارضِ وطن کے اب تک کے معاملات کا جائرہ لے کر سوچیئے کہ ہماری جس منزل کا تعین بانیانِ پاکستان قائد و اقبال نے اپنے زریں اصولوں کے ساتھ کیا تھا، کیا ان 77 سالوں میں ہم اسلامی جمہوری فلاحی ریاست والی منزل حاصل کر پائے۔ کیا ہمیں مذہبی آزادیاں حاصل ہوگئیں۔ کیا ہم اقتصادی طور پر مضبوط اور خوشحال ہوگئے۔ کیا ہمارا صداقت و دیانت کا گراف دنیا کی دیگر اقوام سے بلند ہوا ہے۔ کیا ہم نے اپنی معاشرت میں میرٹ کا بول بالا کیا ہے۔ کیا طاقت و اختیار والے زور آور طبقات نے کبھی عام عوام کی بھلائی کا سوچا ہے۔ کیا مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور اپنے مالی طور پر کمزور بھائیوں کا خیال رکھنے کی اقدار ہمارے معاشرے میں پنپ پائی ہیں اور کیا بے لاگ انصاف کا حصول عام آدمی کے لیئے ممکن ہو پایا ہے۔ آج لیلتہ القدر کی مقدس رات کیوں نہ ہم اپنے ان سارے معاملات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے لیں۔ ہم زیادہ پیچھے کیوں جائیں۔ اس ماہ رمضان کے حوالے سے ہی کیوں نہ تھوڑی سی پرکھ پڑتال کر لی جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ماہ رمضان کے آغاز سے ایک ہفتہ پہلے ہی ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا تھا کہ مہنگائی کا گراف پچھلے آٹھ سال کی کمترین سطح پر آگیا ہے۔ انہوں نے رمضان ریلیف پیکجز کا اعلان بھی کیا۔ دکھاوے کو مارکیٹوں بازاروں کے دورے بھی کیئے، پھر بھی ہمارے رمضان کریم کو ناجائز منافع خوری کے لیئے بروئے کار لانے کے کلچر کو آج کے دن تک کوئی گزند تک بھی پہنچی؟۔ جناب خاطر جمع رکھیئے، اس پورے ماہِ رمضان المبارک کے دوران تاجروں‘ دکانداروں‘ خوانچہ فروشوں کا اس ماہِ مقدس کو اپنے مالی اور اقتصادی استحکام کیلئے ماضی کی طرح منفعت بخش بنانے‘ گھٹیا مال اور گلے سڑے پھل فروٹ فروخت کرنے‘ اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع کمانے اور اپنی دیانت داری کا ڈھنڈورہ پیٹنے کیلئے اللہ‘ رسولؐ کی قسمیں اٹھانے پر اتفاق و عزم میں کوئی ہلکی سی دراڑ بھی پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ اور ماضی کی طرح ہی خوانچہ فروش گلے سڑے پھل فروٹ اور ناقص سبزی اپنے گاہکوں کو من مانے نرخوں پر فروخت کرکے جلدی سے مسجد کی جانب بھاگتے نظر آئے کہ کہیں باجماعت نماز کی ادائیگی سے محروم نہ ہو جائیں۔
حضور یہ تو ہمارا عمومی اجتماعی کلچر بن چکا ہے۔ ہم ماہ مقدس کے روزے رکھنے کا دینی فریضہ بھی عقیدت و احترام سے سرانجام دیتے ہیں۔ بالخصوص اس مہینے کے دوران باجماعت نماز پنچگانہ ادا کرنے کی بھی خشوع و خضوع کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔ سحری‘ افطاری کے اہتمام کیلئے اپنے دسترخوان بھی انواع و اقسام سے ضرور سجاتے ہیں۔پاس پڑوس میں افطاری سے پہلے اپنے کچن میں تیار ہونیوالے پکوڑے‘ سموسے‘ دہی بھلے‘ فروٹ چاٹ ٹرے میں ڈال کر پہنچانے کے انتظام میں بھی کوئی کوتاہی نہیں ہونے دیتے اور اس مقدس مہینے کے دوران ناجائز منافع کمانے کی اگلی پچھلی کسریں نکالنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ کیونکہ ہمارے کلچر میں رمضان کریم کا تصور سال بھر کی ساری ضرورتیں پوری کرنے کیلئے جیسے تیسے روپیہ کمانے اور بنانے والے مہینے والا بن چکا ہے۔ اس کلچر میں اگر درگت بنتی ہے تو اس بے چارے مایوس مقہور انسانی لاشے کی جو بے کاری‘ بے روزگاری‘ کم وسائل‘ معمولی تنخواہ اور اسکی بھی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث اپنے وسیع خاندان کا بھاری بوجھ اٹھانے کی تگ ودو میں پہلے ہی عملاً زندہ درگور ہو چکا ہوتا ہے۔ سو جس کے پاس پہلے ہی اپنی روزانہ ضرورت کی اشیاء خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران پل پل اٹھتے مہنگائی کے سونامیوں کے آگے تو وہ ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اس فضا میں جب اسے یہ خبر ملتی ہے کہ اس کے ووٹ سے منتخب ہو کر اعلیٰ ایوانوں میں پہنچنے والے ارکانِ پارلیمنٹ، وزیروں، مشیروں، سپیکروں، ڈپٹی سپیکروں نے اقتداری بھائیوال بن کر اپنی تنخواہوں اور دوسری مراعات میں تین چار گنا اضافہ کر لیا ہے۔ اور اسی طرح انصاف کے ایوانوں کی معزز شخصیات اور دوسری ادارہ جاتی قیادتوں نے بھی خود کو بھاگ لگانے می کوئی کسر نہیں چھوڑی تو انہیں مسلمانوں کے لئے الگ ارضِ وطن کے حصول کے پس منظر کی پوری طرح سمجھ آجاتی ہے۔
سو ماہ رمضان کے دوران ہاتھ آئے لوٹ مار کے مواقع کو ہاتھ سے جانے دینے کا گناہ بھلا کون اپنے سر چڑھائے گا…؎
ساقیا‘ باہن دے مَینُوں بھوئیں تے
ایہہ میز کرسیاں چا لَے
جیہڑی پئی آ‘ اورہاں لئی آ
تے کجُھ باہروں وی منگوا لَے۔
جناب! سر کشی کو باندھ کر بے خودی کے سمندر میں غوطے لگانا ہی تو ہم نے ماہ مقدس والے اپنے کلچر کا حصہ بنالیا ہے۔ بھئی! اس کلچر میں اشرافیاؤں کے ہی تو وارے نیارے ہیں۔ ریاست مدینہ کا تصور عملی قالب میں ڈھالنے کا عزم باندھنے والوں کی ہی تو دکانداری چمک رہی ہے اور انکے ہاتھوں راندۂ درگاہ عوام کا بھرکس نکلنا ہی تو انکے مقدرات کا حصہ بن چکا ہے…؎
مقدرات کی تقسیم جب ہوئی عابد
جو غم دیئے نہ گئے تھے‘ وہ میں نے جا کے لئے
آپ ماہ مقدس میں نمودونمائش والی خیرات بانٹ کر نیکیاں کمائیں‘ گھٹ گھٹ کر مرنے کا مقدر رکھنے والے عوام آپ کی ان نیکیوں میں اضافے کا باعث بنتے ریں گے مگر سوچ رکھیے اور جان رکھیے حضور کہ رب کائنات نے شرف انسانیت اور تکریم انسانیت کو باوقار انسانی معاشروں کی بنیاد بنایا ہے۔ تکریم انسانیت کا تقاضا ہے کہ مستحقِ زکوٰۃ کو بھی اپنے پاس بلا کر زکوٰۃ نہ دی جائے بلکہ اسکے پاس‘ اسکے گھر جا کر اتنی رازداری میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا فرض نبھایا جائے کہ اسکے پڑوسی کو بھی اسکی خبر نہ ہونے پائے۔ حضور! یہ تجربہ کرکے تو دیکھئے۔ بارگاہِ ایزدی میں عبادات کی قبولیت آپ کا انعام بن جائیگی۔ آج لیلتہ القدر کی رات اس ارضِ وطن کی تشکیل کی بھی رات ہے تو یہ ہمارے اربابِ بست و کشاد کے بھی سوچنے کا وقت ہے کہ قدرت نے ہندو کے ساہوکارانہ لُوٹ کھسوٹ والے نظام سے باہر نکالنے کے لیئے ہمیں الگ خطہء ارضی کے حصول کا موقع دیا تھا تو کیا ہم نے اس الگ خطہء ارضی میں عام عوام کو لوٹ کھسوٹ والے سسٹم سے نجات دلا دی ہے یا انہیں فی الحقیقت زندہ درگور کر دیا ہے۔ یہ گھڑی محشر کی ہے، تُو عرصہء محشر میں ہے پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے۔




