وزیراعظم سرکاری نیم سرکاری اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کرے، عبدالطیف نظامانی
حیدرآباد(گردوپیش)
آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے بجٹ مالی سال 2025-26 کے حوالے سے اپنے بیان میں وزیر اعظم پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ضروریات زندگی اور اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے ہونے کے پیش نظر سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی ملازمین ، بینک ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ملازمین کی اجرتوں میں کم از کم 20%فیصد اضافہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی اسی طرح 20%فیصد اضافہ کیا جائے جبکہ 16سال کے بعد فیملی پنشن سے محروم کرنے کی شرط کو بھی ختم کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایک جانب اسپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینٹ، وفاقی اور صوبائی وزراء ، اراکین اسمبلی وسنیٹ کے ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں حد سے زیادہ اضافہ کردیاہے دوسری جانب ملک کے عام شہری اور ملازمین کے اخراجات کے مقابلے میں 10%فیصد اضافہ انتہائی قلیل اور ناکافی ہے ابھی صرف حکومت نے بجٹ کا اعلان کیا ہے اور وہ منظور بھی نہیں ہوا مگر بازار میں ہر چیز کی قیمتیں خوبخود بڑھنا شروع ہوچکی ہیں اس صورت میں 10%فیصد حاضر اور 7%فیصد ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ عبداللطیف نظامانی نے حکومت سے سوال کیا کہ 10سال کے بعد فیملی پنشن اگر ختم کردی جائیگی تو پنشن کی مستحق فیملی کس طرح اپنی زندگی گزر بسر کریگی ، کیا 10سال بعد فیملی کو بے یار ومددگار مرنے کیلئے چھوڑ دیا جائیگا اور ان سے زندہ رہنے کا حق بھی آئی ایم ایف کی ایماء چھین لیا جائیگا۔عبداللطیف نظامانی نے اس موقع پر بتایا کہ ہم نے یکم مئی ،6مئی اور 2جون کو یوم ِ مطالبات کے حوالے سے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا جس میں ہم نے قومی اداروں بالخصوص محکمہ بجلی اور اسکی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کے خاتمے، ملازمین کی بھرتیوں ، بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے ، کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز ، پارٹ ٹائم اور پیکج پر بھرتی کیے گئے ملازمین کو ریگولر کرنے اور دیگر مطالبات پیش کیے تھے، ہمارے ان مطالبات کی روشنی میں 10%فیصد تنخواہ بڑھائی گئی جو ناکافی ہے ہم نے حکومت سے اس حوالے سے کہا کہ وہ کم از کم 20%فیصد تنخواہ اور پنشن کو بڑھانے اور اسکے علاوہ دیگر مطالبات میں صرف کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کے احکامات حکومت پاکستان نے جاری کرائے ہیں جس پر ہم حکومت پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے اس اہم مطالبے کو منظور کرتے ہوئے احکامات صادر کردیے ہیں,



