لالہ مرزاخان
ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے
ایک عجیب فضا ہے، سب عدم تحفظ کا شکار ہیں،کسی کو بھی پتہ نہیں کب کیا ہوگا غیر منتخب لوگوں کو ملک پر مسلط کیاگیا ھے
سیاسی ماحول ہو، صحافتی خدمات ہو،
پولیس کی وردی ہو، یا سماجی تنظیموں کے دیکھاوے کا کام ،
تمام کے تمام ایسے لگ رہے ہیں جیسے جوانی کے جذبات دیکھانے سے قبل کسی جانور کو چرواہا انکی صلاحیت سے محروم کر دیتا ھے، اب وہ بکریوں کے اندر رہتا ضرور ہے اور آوازیں بھی مستی کی جزبات والی ہی نکالتا ہے بالکل جیسے نر جانور انکے وہ جذبات صرف آوازوں تک ہی محدود ہوتے ہیں ،
جب انہیں زیادہ غصہ آجائے تو وہ پھر اس چرواہے مالک کی جانب دیکھ کر اپنا سر آسمان کی جانب اٹھاکر اپنی بے بسی والی آواز ایک بار پھر زور سے نکال تاہے ،
تاہم چرواہا کلہاڑی کاندھے پر رکھ کر اپنے ہاتھوں کی دو چھوٹی انگلیوں سے زبان کو پیچھے کی طرف موڑ کر سیٹی بجاتا ہے اور پھر انکی نگرانی شروع کردیاھے ،




