کالم

سیاستدان اور ہماری فوج

رضوان احمد گدی

پاکستان کی سیاست میں آجکل بڑی ہلچل ہے اور ہر چوک ہر چوپال میں گفتگو کا محور پاکستانی سیاست ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے اپنے انداز میں تبصرے کرتے ہیں جب ہم پاکستانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سمجھ آئے گا کہ اس ملک میں صرف ایک درناک واقعہ کے کچھ نیا نہیں ہو رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ, نالائق،نااہلی سچائی کے کاغذ میں لپیٹ کر ہر شخص کی دسترس میں پہنچ گئی ہے کیونکہ پاکستان میں سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں یہ مناظر بارہا دیکھے ہیں لیکن اس وقت خبروں کا ذریعہ پی ٹی وی اور اخبارات ہوا کرتے تھے اکثریت اخبار خریدتی نہیں تھی مخصوص گھروں و دکان ہوٹل پر اخبار آیا کرتا تھا اخبار بھی بہت محتاط انداز میں رپورٹنگ کیا کرتا تھا کہ مبادا بند نا کر دیا جائے پی ٹی وی صرف اسپورٹس،ڈرامے اور حکومت کے کارنامے بیان کرتا تھا عوام کی اکثریت پڑھی لکھی بھی نہیں تھی لہذا شوقین حضرات چائے پلا کر اخبار سنا کرتے تھے اب حالات تبدیل ہوئے پرائیویٹ چینل،نیٹ کے ذریعے بین الاقوامی رسائی،اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ و یو ٹیوبر کے ذریعے مصالحہ دار تبصرے و خبریں مل رہی ہیں جو ایک دوسرے کو سینڈ کر کے فریضہ حق ادا کرنا محبوب مشغلہ ہے آج کل تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کے لئے حاصل کی جا رہی ہے کتابیں پڑھنا خریدنا متروک ہو چکا ہے اور ہمارے معاشرے کی بڑی بدقسمتی ہے کہ حقیقی سمجھ دار کو بے وقوف سمجھا جاتا ہے ہم جسے پسند کرتے ہیں اس کے بارے میں ہی جاننا چاہتے ہیں اور اس کی نالائقی نااہلی کو بھی کرامت کے طور پر بیان کرتے ہیں
جیسا کہ میں نے اوپر بتایا کہ سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی نئی بات نہیں اب حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان جموریت ،قانون کی حکمرانی،کرپشن سے پاک صاف شفاف حکومت،گڈ گورننس کی بات کرتے ہیں لیکن اپنے لئے نہیں مخالف سیاستدانوں کے لئے اپنی پارٹیوں میں جموریت کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے باپ کے بیٹا یا بیٹی وارث بن جاتی ہے الیکشن کمیشن کے رولز میں ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن ہوں اور اس کے ذریعے پارٹی عہدیدار منتخب ہوں مجال ہے کسی پارٹی نے ایماندارانہ پارٹی الیکشن کے ذریعے عہدے دار منتخب کئے ہوں سب الیکشن کمیشن میں جعلی کاغذات جمع کراتے ہیں کہ ہمارے یہاں انٹرا پارٹی الیکشن میں درج ذیل لوگ منتخب ہوئے بڑے بڑے بزنس مین،ٹھکیدار راتوں رات پارٹی میں بڑے عہدوں ہی نہیں سینیٹر،اسمبلیوں کے رکن وزارتوں تک پہنچ جاتے ہیں اور غریب کارکن کی قسمت میں نعرے،جیل اور چاکنگ ہی رہ جاتی ہے جب کارکن دیکھتا ہے کہ پارٹی میں پیسے والے کی عزت ہے تو اسے جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے دائرے میں کرپشن کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا جیسے اس کے پارٹی میں بڑے نہیں چھوڑتے سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اس وقت انکے پاس زبان پر عدل عمر،یورپ کی مثالیں،کرپشن سے پاک پاکستان کی مثالیں ہوتی ہیں لیکن اندر وہ اس وقت کی منتخب حکومت کو گرانے کے لئے ایک پاؤں باہر اور ایک پاؤں گیٹ نمبر 4 کے اندر ہوتا ہے اور وہ بوٹ چاٹ رہے ہوتے ہیں اور وہ اسٹیبلیشمنٹ کی منتیں کرتے ہیں کہ ہم سے بڑا محب وطن محب فوج کوئی نہیں ہے آپ بس ایک موقعہ تو دیں اس حکومت نے ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ بدقسمتی سے اس وقت انہیں فوج کی سیاست میں مداخلت کی باتیں یاد نہیں آتیں بلکہ یہ ترلے منت کرتے ہیں کہ اگر آپ یعنی فوج نے کردار ادا نہیں کیا تو یہ ملک ڈوب جائے گا اور آپ ذمہ دار ہونگے جب یہ ساری چمچہ گیری اور بوٹ پالش کرنے کے بعد انکی مدد سے اقتدار میں آتے ہیں تو انکی اپوزیشن کی تقریریں و پلاننگ کیونکہ وہ حقیقت سے عاری تھیں عمل نا کرنا چاہتے تھے اور نا کیا جا سکتا تھا کیونکہ اسٹیٹ کو چلانے کے لئے کچھ لوازمات ضروری ہوتے ہیں مثلاً کسی ملک کو چلانے کا آسان فارمولا عوام سے ٹیکس وصول کئے جائیں اس سے انہیں سہولتیں دی جائیں بیرونی قرضہ لیا جائے اس سے انفرااسٹرکچر بنایا جائے آمدنی میں اضافہ کیا جائے برآمدات بڑھائی جائیں اور بروقت قرضہ واپس کیا جائے،نئی نسل کو تعلیم و تحقیق کے میدان میسر کئے جائیں تا کہ ذہین نوجوان ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالیں اب ہوتا کیا ہے جو ہم بچپن سے دیکھ رہے ہیں ہر حکومت بشمول عمران اور موجودہ پی ڈی ایم جب بھی حکومت ملے ایک ہی بات خزانہ خالی ہے پچھلے والے لوٹ گئے پچھلے والے جو اب اپوزیشن میں ہیں کیس بناؤ جیل بھیجو جو معافی مانگ لیں اپنی پارٹی میں شامل کر لو بات ختم، پچھلے والوں نے بے نظیر اسکیم دی تھی ہم مرغی،سستی روٹی،لیپ ٹاپ،ہیلتھ کارڈ لنگر خانے اسکیم دے دیں کوئی نہیں پوچھ رہا پیسے ہیں نہیں یہ کہاں سے دے رہو ہو دراصل باہر سے قرضہ لیا تھا ترقیاتی کاموں و بزنس بڑھانے کے لئے دے دیا ان اسکیموں کے ذریعے عوام میں تا کہ ووٹر بڑھائے جا سکیں اب جنہوں کا پیٹ بھرا یا جعلی ٹھیکے،نوکریاں دیں انکے نزدیک سارے ثبوت دکھ دو پھر بھی نہیں مانیں گے ہر سیاسی جماعت پولیس،کورٹ،دفاتر ہر جگہ اپنی حکومت میں افسر،بندے لگاتی ہے جو ملک کے بجائے انکے ذاتی ملازم ہوتے ہیں اب عمران خان نے اپنے دور میں انتہائی چالاکی و شعبدے بازی سے فوج کے حاضر سروس و ریٹائر حضرات میں اپنے حامی بنا لئے جس کا نتیجہ سامنے ہے میرا کہنے کا مقصد ہے کہ سیاستدان حکومت میں آ کر انکے ادارے کیوں ٹھیک نہیں کرتے آج اسمبلیوں کے ٹکٹ، منتخب ہونے تک کرپشن حکومت بننے کے بعد حکومت کے ماتحت تمام اداروں میں کرپشن وزیر وہ بنائے جاتے ہیں جو مال بھی بنائیں پہنچائیں بھی حکومتی وسائل سے پارٹی کے کام چلائے جاتے ہیں ملک کھوکھلا کرتے ہیں پارٹی مضبوط کرتے ہیں سیاستدان جب حکومت میں ہوتے ہیں باہر جاتے ہیں تو ملک دشمن ایجنسیوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ فوج کسی کو نہیں چلنے دیتی تم ملک لوٹ کر پیسے باہر لاؤ پیسہ ہو گا تو آگے سیاست کر لو گے ورنہ نام مٹ جائے گا اب یہ سارے دھندے کریں فوج روکے تو فوج چلنے نہیں دیتی اب فوج سیاسی جماعتوں کی طرح ٹی وی پر بیٹھ کر جواب تو نہیں دے سکتی آجکل مشرقی پاکستان کی نایاب ویڈیوز و دیگر کاغذات کون دے رہا ہے کوئی تو ہے جو ملک دشمن طاقتوں سے ملر منفی پروپیگنڈا کو آگے بڑھا رہا ہے ہمارا معاشرہ کونسا آئیڈیل معاشرہ ہے ہر دفتر،ہرجگہ فرعون،قارون بیٹھے ہیں فوج میں بھی اچھے برے ہیں لیکن فوج میں آفیسرز و جوان کے خلاف شکایت ہو اس پر ایکشن ہوتا ہے فوج اس پاکستان میں واحد ادارہ ہے جہاں ایک غریب کا بچہ لیفٹینٹ بھرتی ہو کر محنت سے پوری فوج کا جنرل بن سکتا ہے حالیہ مثال موجودہ جوانئٹ چیف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد ہیں جو یتیم خانے میں پلے اور فوج میں بھرتی ہوئے لاکھوں اس معاشرے میں ایسے لوگ ہیں جو غریب تھے انکے بچے فوج میں بھرتی ہوئے میرٹ پر تھے آگے ترقی کی عمران خان کی میرے نزدیک ناکامی کا سب سے بڑا سبب ضدی،گمنڈی،متکبر ہونا ہے وہ ضد میں ایک بات تو کرتا ہے لیکن حقیقت میں ہوتی نہیں تو واپس آ کر اس کے منہ پر لگ جاتی ہے جیسے مر جاؤں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا،پروٹوکول کا خاتم،لوٹی دولت واپس لانا وغیرہ وغیرہ تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا الزام امریکی حکومت اور سائفر کا لگایا ساری پبلک امریکہ سے آزادی اور ہر زبان عمران سے لیکر عوام کی یہ تھا کہ پاکستان میں امریکہ حکومت بناتا اور ہٹاتا ہے مجھے ماضی میں باخوبی تجربہ ہے کہ کوئی بھی بات امریکہ کے خلاف کرو عوام جلدی ساتھ لگ جاتی ہے ہٹنے کے بعد صدر علوی کے ذریعے باجوہ صاحب سے بھی رابطے امریکہ میں تعلقات بہتر کرنے کے لئے لابنگ فرم ہائر کی تو امریکہ اور اسرائیل انڈیا تو چاہتے ہی کمزور ٹوٹا پھوٹا پاکستان اب وہ قوتیں عمران خان کو سپورٹ کر رہی ہیں وہ قوتیں ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہونے دے رہیں آئی ایم ایف کے مطالبہ پر موجودہ حکومت نے مہنگائی کی تا کہ انہیں قسط،و قرض واپس کیا جا سکے لیکن اب موجودہ حکومت نے ہار مان کر چین روس سعودیہ ایران سے تجارتی تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے ہیں اب امریکہ کب چاہئے گا کہ ایٹمی پاکستان اس کے چنگل سے نکلے تو خان صاحب کی مدد سے وہ فوج پر حملہ اور ہے اب ہمارا فرض ہے کہ ہم سچ بولیں اس شازش کو سمجھیں ہم عہد کریں کہ جبتک یہ سیاستدان قول و فعل کا تضاد ختم نہیں کریں اور حقیقی جمہوریت و گڈ گورننس کے لئے کام نہیں کرینگے ہم محب وطن پاکستانی چاہیے کسی بھی پارٹی و شعبہ زندگی میں ہوں اپنی فوج کو سپورٹ کرینگے کیونکہ فوج واحد ادارہ ہے جو وارثت سے پاک ہے اور ملک کی حفاظت کر رہا ہے کیونکہ فوج نا ہوئی تو ہم انڈیا امریکہ اسرائیل کے لئے ترنوالہ بن جائیں گے اور شام لیبیا عراق افغانستان کی مثالیں سامنے ہیں یہ تو بھاگ جائیں گے ہمیں تو یہیں رہنا ہے تو پھر اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے سچ بولو سچ کا ساتھ دو

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی