پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ، سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی
حیدرآباد( ویب ڈیسک: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ پر بینچز بنانے سے متعلق حکم امتناع ختم کرتے ہوئے فل کورٹ سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی جبکہ فریقین کو 25 ستمبر تک عدالت کے سوالوں کے جواب کے ساتھ تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ فل کورٹ بینچ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ 2023 کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر ملکی تاریخ میں پہلی بار براہ راست عدالتی کارروائی نشر کی.
سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوئی، انہوں نے پہلے ہی دن فل کورٹ کی سربراہی کی۔ سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجر ایکٹ کی سماعت کی۔
وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج نہیں لگتا کہ سماعت مکمل ہو، میں نے اپنے دونوں سینیئر ججز سے مشاورت کی، کیا آپ راضی ہیں کہ کیس کو پارٹ ہرڈ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا فیصلہ لکھوایا اور حکم نامہ میں کہا کہ درخواست گزاروں اور اٹارنی جنرل کو بینچ کے سوالات کے جواب دینا ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پریکٹس اینڈپروسیجر کے ذریعے درپیش چیلنج پر اپنے دو سینیئر ججز سے مشاورت کریں گے، جسٹس سردارطارق اورجسٹس اعجازالاحسن نے مانا کہ ہم اپنے تئیں پریکٹس اینڈ پروسیجر طے کریں گے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام فریقین 25 ستمبر تک جواب جمع کرا دیں، درخواست گزاروں کی جانب سے فل کورٹ پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس کا دوران سماعت کہنا تھا کہ آپ سب برا نہ مانیں تو دلائل مختصر اور جامع رکھا کریں۔ عدالت نے پاکستان بار کونسل کی فل کورٹ درخواست منظور کرکے نمٹا دی اور سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ اس سماعت کو لائیو دکھایا جائیگا۔
یاد رہے کہ سماعت کے آغاز میں جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون کے مطابق 184/3 میں اپیل کا حق دیا گیا، فل کورٹ اگرقانون درست قرار دے تو اپیل کون سنے گا؟ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ پہلے جسٹس عائشہ ملک کے سوال کا جواب دینا چاہوں گا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ چیلنج کیا گیا قانون پڑھنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ جسٹس عائشہ اے ملک نے خواجہ طارق رحیم سے استفسار کیا کہ اگر فل کورٹ یہ کیس سنے گی تو اسی ایکٹ کی سیکشن 5 کا کیا ہو گا، کیا سیکشن 5 میں جو اپیل کا حق دیا گیا ہے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عدالت عالیہ نے سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو 25 ستمبر تک عدالت کے سوالوں کے جواب کے ساتھ تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔




