میرابلوچستان تحریر لالہ مرزاخان
میرابلوچستان تحریر لالہ مرزاخان
جنوری 25, 2024 0
گزشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل جانے کا اتفاق ہوا,میرے ہمراہ عمرخان مرغزانی موسیٰ خیل اوردیگر ساتھی تھے جن میں جہانگیرخان میرعجب خان ولی خان شامل تھے،ہم تمام ساتھی حاجی نظر خان مرغزانی موسی خیل کے قافلے کاحصہ تھے،حاجی نظر خان نےچونکہ موسیٰ خیل سے کئی بار صوبائی اسمبلی کاالیکشن لڑاہے اورسینئر سیاستدان کے ساتھ ساتھ موسی خیل کی سیاست پرگہری نظررکھتے ہیں،اس بار حاجی نظرخان صاحب نے الیکشن میں حصہ نہیں لیاتھامیرے طرف سے دریافت کرنے پرانکاکہناتھاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس بار اہل موسی خیل اور باراکھان کی عوام کے ساتھ بڑی زیادتی کی گئی ہے،الیکشن کمیشن نے موسیٰ خیل اور باراکھان دونوں اضلاع کو ایک صوبائی نشست دی ھے جوکہ نہ صرف ضلع موسیٰ خیل بلکہ ضلع باراکھان بالخصوص صوبہ بلوچستان کے ساتھ بڑی انصافی کی گئی ہے،حاجی نظرخان نے بتایاکہ انہوں نے موسیٰ خیل کا مقدمہ اسلام آبادمیں لڑالیکن الیکشن کمیشن نے ایک بھی نہیں سنی اورنہ ہی عدلیہ کی جانب سے انکے حق میں فیصلہ آیاموسیٰ خیل کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس حوالے سے کیس داخل کیے تھے تاہم تمام سیاسی جماعتیں مقدمہ جیتنے میں ناکام ہو ئیں،
حاجی نظرخان نے بتایاکہ اس بار دونوں اضلاع سے صرف ایک صوبائی امیدوار منتخب ہوگا اورچارسے زائد اضلاع پر بھی قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست ملے گی،
جیت کی صورت میں صوبے اور وفاق میں صرف ایک ایک ممبر کیسے اتنے بڑے رقبے والے اضلاع لورلائی،موسیٰ خیل،باراکھان کوترقی دے سکیں گے کیاانکی آواز کوئی سننے والاہوگا،الیکشن کمیشن کی جانب سے اس ناانصافی پرحاجی نظرخان نے الیکشن لڑنے کے بجائے اس بات کواہمیت دی کہ وہ موسیٰ خیل سے کسی دوسرے امیدوار کی حمایت کریں گے تاکہ موسی خیل جوکہ پسماندہ علاقہ ہے میں ترقیاتی کے کام ہوسکے،
اسی تمناکولیئے حاجی نظرخان نے اپناقافلہ ظاہر پیر سے روانہ کیااور موسیٰ خیل میں ڈیرہ جماع لیااورکہاکہ میرا ووٹراسکو ووٹ دے گاجوموسیٰ خیل کم باراکھان کو سرسبزکریگا،میں بھی کئی دن حاجی صاحب کے ہمرہ انکے بنگلے کے کمرے کے ایک کونے میں ٹھراجنوری کی سرد راتوں سے میرا شریر نا آشناتھا اپرسے کھانسی نے باقی کثر پوری کردی تھی،کمرے میں گرم پانی کا بندوبست بھی نہیں تھا کیونکہ اہل موسیٰ خیل کو صرف 6گھنٹے بجلی میسرتھی،اس شدید سردی میں تین دن کاقیام میرے لیئے ایک آزمائش تھی اس دوران مجھے بہت تجربہ بھی ہوا،اس دوران صوبائی اسمبلی اورقومی اسمبلی کے کیئے امیدوارں حاجی نظرخان کے پاس حمایت حاصل کرنے کیلئے تشریف لائیں تاکہ انہیں حاجی نظر خان کی حمایت حاصل ہو،لیکن حاجی نظرخان نے مفاد کے بجائے اہل موسیٰ خیل کو اہمیت دی،قصہ مختصر حاجی نظر خان کسی نتیجے پر پہنچے اورمشاورت کے بعد صوبائی اسمبلی کے حلقہ PB4 کیلئے آزادامیدوارموسیٰ خیل میں ژغ اتحاد کے متفقہ امیدوار مولوی میرزمان لالہ اور قومی اسمبلی کے حلقہ 252 NA
پر مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما وسابق صوبائی وزیرمسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سینئر سیاستدان سردار یعقوب خان ناصر کی حمایت کااعلان کیا،سرداریعقوب خان ناصربھی ان امیدواروں میں شامل تھے جوحاجی نظرخان کے پاس حمایت کیلئے تشریف لائے تھے اور اس سے قبل انہوں نے ٹیلی فون پر بھی رابطہ کیاتھاکہ اگرحاجی نظرخان موسیٰ خیل انکی حمایت کا اعلان کریں توموسیٰ خیل کے مسائل پرضرورتوجہ دیں گے،
یہ قصہ یہاں تمام ہوا اور واپسی کا سفر شروع ہوا میرے اسرار پر کہ بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کی زیارت ضروری ہے اس پرعمر لالہ نے ہار مانی اور اپنی ویگوکا رخ موسیٰ خیل سے باراکھان اور پھر میختر کی جانب موڑلیا اس دوران مجھے پورا پشتون بیلٹ دیکھنے کا موقع بھی ملایقین کریں میرے دل میں بہت تکلیف ہوئی قدرتی گیس سے مالامال صوبے بلوچستان کا ہرایک باشندہ گیس کی سہولت سے محروم تھا اور محروم ہے پورے پشتون بیلٹ میں مجھے کہیں ڈبل روڈ نظر نہیں آیا موسیٰ خیل بلوچستان کاوہ آخری ضلع ھے جسکی سرحدیں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان اور KPK
کے ضلاع ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں اور پھر وہاں سے دارالخلافہ کوئٹہ تک پورے کا پورا پشتون بیلٹ ہے، اس پورے خطے میں مجھے کہیں بھی ڈبل روڈ نظر نہیں آیا،اسکے بعد کوئٹہ سے براستہ مچھ سبی جیکب آباد سکھر آناہوا اس جانب بھی نہ کہیں ڈبل روڈ نہ موٹروے تھا نہ کہیں ڈبل روڈ پورے صوبے میں تھاسنگل روڈ تھے جن میں جگہ جگہ گہڑے پڑے ہوئے تھے اورکہیں ٹوٹے ہوئے تھے.بلوچستان کے شہری بیشتر دیہاتی ان سہولیات سے محروم تھے جوانکی اپنی پیداوار ہے،
جب اہل موسیٰ خیل سے معلوم کیاتوعلم ہواکہ موسی خیل کے اکثر اسکولوں میں تعلیم دینے کے بجائے مویشیوں کاچارہ رکھاجاتاہے اوراساتزہ بچوں کودرس دینے کے بجائے اپنے نجی کاروبار کوترجی دیتے ہیں ان اسکولوں کی دیواریں بچوں کی آوازں سے ناآشناہیں،صحت کابراحال ہے،پورے ضلع موسیٰ خیل کا ایک سرکاری ہسپتال ہے جہاں کسی قسم کی کوئی سہولیات میسر نہیں ہیں،
یہ حال ضلع موسیٰ خیل کا نہیں میرے پورے بلوچستان کاہے،محترم قابل قدر جناب وزیراعظم پاکستان جناب انوارلحق کاکڑ صاحب آپکا تعلق بھی بلوچستان اور موسیٰ خیل کے پڑوسی ضلع سے ہے جناب اعلیٰ اہل بلوچستان اہل موسیٰ خیل کو کسی چیز پر کوئی اعتراض نہیں ھے سب کو گیس دیں صرف وہ حقوق بلوچستان کے شہری کو بھی دیجئے گا جوپنجاب میں رہنے والے ہمارے بڑے بھائی کو ہے جو سندھ میں آباد ہمارے دوسرے بڑے بھائی کا ہے،یقین کریں میں جتنے دن اپنے آبائی شہرموسیٰ خیل میں رہامجھے یہ انتظار تھاکہ میری واپسی اپنے دوسرے پیارے شہرحیدرآباد کب ہوگی،تین دن قیام کے بعد جب واپس روانہ ہوا تو موسیٰ خیل کی ویران شاہراوں اسکولوں کو اپنے اشکبار نظروں سے دیکھتارہا دیکھتارہا اور پھر دیکھتاچلاگیا،



