سندھ حکومت نے 25 سال بعد سندھ میں واٹر ٹیکس آبيانے میں اضافہ کردیا
حیدرآباد(گردوپیش )سندھ حکومت نے 25 سال بعد سندھ میں واٹر ٹیکس آبيانے میں اضافہ کردیا۔
فروری 20کو ہونے والے اجلاس میں نگراں حکومت نے سندھ میں گھریلو، صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے واٹر ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے پانی کی قیمت 50 پیسے فی ہزار گیلن سے بڑھا کر 4 روپے فی ہزار گیلن اور صنعتی صارفین کے لئے ایک روپیہ فی ھزار گیلن سے بڑھا کر 8 روپے کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں زرعی صارفین کے لیے آبپاشی کی ٹکس میں بھی 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ جس میں گنے کی نئی قیمت 363 روپے فی ایکڑ، چاول 177 روپے، کاٹن 186 روپے فی ایکڑ، گندم 106 روپے، باغ 284 روپے اور سبزیوں کی فی ایکڑ آبیانے کے نرخ 80 روپے مقرر کئے گئے ہین ۔ واضح رہے کہ 1999 میں آبپاشی کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا تھا اور اب 25 سال بعد نئے نرخ لگائے گئے ہیں جس سے محکمہ آبپاشی کے پاس واٹر ٹیکس کی مد میں زیادہ رقم جمع ہوگی۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے نظام کی دیکھ بھال کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب میں بھی پانی کے نئے ریٹ لگائے گئے ہیں جس کے بعد سندھ نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی سیڈا نے تینوں ایریا واٹر بورڈز نارا، گھوٹکی اور لیفٹ بینک کینالز ایریا واٹر بورڈ کے ڈائریکٹرز کو اپنے اپنے کمانڈ ایریاز میں آبپاشی کے نئے نرخ پر عمل درآمد کے لیے خط جاری کیا ہے۔




