روڈوں کی انسپکشن مکمل کرکے23 اپریل تک تفصیلی رپورٹ پیش کریں ہائی کورٹ حیدرآباد
حیدرآباد(گردوپیش
حیدرآباد ھائے کورٹ نے روڈوں کے متعلق 19 مارچ کو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ چوہدری ظفراللہ آرائیں اور ایڈووکیٹ ریاض الدین قریشی کے استدعا کو آگے بڑھاتے ھوئے ایڈیشنل رجسٹرار ھائی کورٹ حیدرآباد صدرالدين بوہیوں کو 23 اپریل تک تمام روڈوں کی انسپکشن مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا ھے

اور 19 مارچ کو پٹیشنر رفیق مگسی جنرل سیکرٹری مسلم لیگ فنکشنل ضلع حیدرآباد بھی ھائے کورٹ میں موجود تھے۔ انسپکشن کو مکمل کرنے کے لیئے کورٹ نے مزید وقت دے دیا۔ ایک فیز وومین پولیس اسٹیشن سے پبلک اسکول بڈی چوک تک کا انسپکشن کیا گیا تھا باقی قاسم آباد کے کچھ روڈوں کا انسپکشن باقی تھا جومعزز عدالت نے مزید مہلت دی۔

علمدار چوک سے علی پیلس اور سحرش نگر تک نئے روڈوں کی حالت بالکل خستہ حالی کا شکار ھے،ان روڈوں میں بڑے بڑے کھڑے بنے ھوئے ہیں جہاں سےموٹر سائیکل اور رکشہ میں سوار خواتین بچوں کو بڑی مشکل سے گزرناپڑھ رہاہے،ان نئے تعمیر شدہ روڈوں میں ناقص مٹیریل کا استعمال کرپشن کامنہ بولتا ثبوت ھے اور وادھوواہ روڈ پونم پمپ سے لیکر بائے پاس تک دونوں اطراف کی انکروچمنٹ کو ہٹانے کے بجائے وادھوواہ کو افسران نے ٹیکنیکل طریقے سے ڈیزائن کو چھوٹا کرکے روڈ کو کشادہ کیا۔انکروچمنٹ والے حصے کو بنانے کے بجائے وادھوواہ کے نئے کروڑوں روپے سے بنے ھوئے عالیشان تعمیر شدہ روڈ کو توڑ کر پھر سے 26 کروڑ روپے لگائے گئے۔جو کرپشن کے نظر ھوگئے۔ڈسٹرکٹ ھائے وے ڈپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ پراویشنل ھائے وے اور سابق ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور افسران نے بڑے پیمانے پر کرپشن کی ھے۔ ضلعی تمام ورکس ڈپارٹمنٹ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کام کرتے ہیں لہٰذا غلط اور سحی کام کا ذمہ دار ڈپٹی کمشنر ھوتا ھے۔سابق ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد غفار سومرو نے ضلعی فنڈ میں بڑے پیمانے میں افسران سے مل کر پیسے خرد برد کیئے۔کئی اربوں روپے حیدرآباد کی خوبصورتی کے لیئے آئے وہ سارا پیسہ کہا گیا اس کی انکوائری بھی ضروری ھونی چاہیئے۔ P&D ڈپارٹمنٹ جو ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ھے۔جس میں اسٹنٹ ڈائریکٹر عامر جتوئی ھے۔حیدرآباد کے کئی کروڑوں اربوں روپے کہا خرچ کیئے کوئی خبر نہیں۔انکوائری ضرور ھونی چاہیئے۔
اگر یہی پیسہ قاسم آباد کے اور محلوں سوسائٹیز کچی آبادی میں پانی سیوریج یا روڈوں پر خرچ ھوتے تو حیدرآباد قاسم آباد کا کافی مسائل حل ھوجاتے۔لیکن افسران کی نااہلی اور کرپشن کرنے کا طریقہ واردات کچھ مختلف تھا۔ اس لیئے کروڑوں روپے پانی میں چلے گئے۔ ایڈیشنل رجسٹرار ھائے کورٹ صدرالدین بوہیوں صاحب تاریخ مقرر کرکے انسپکشن کو مزید آگے بڑھائے گے۔تاکہ انسپکشن مکمل ھو سکے۔
میڈیا سیل مسلم لیگ فنکشنل ضلع حیدرآباد




