کالم

لالہ مرزاخان

ہائے بلوچستان آپکی قسمت

تحریر لالہ مرزاخان

کہتے ہیں کہ چراغ دوسروں کوروشنی فراہم کرتا ھے لیکن خود اپنی روشنی سے محروم رہتاھے، بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ھے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام قدرتی وسائل سے مالامال کیاہواھے
قدرتی گیس قیمتی پتھروں سمیت دیگر قدرتی ذخائر سے مالامال ھے،لیکن افسوس اس امرکاھے کہ بلوچستان خود جومعدنیات دیگر صوبوں کو فراہم کرتا ھے وہاں انہیں خود محروم رکھا گیا ھے،اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ 7 دھائیوں سے اہل بلوچستان کواپنے حقوق سے محروم رکھا گیا ھے ، جس صوبے سے قدرتی گیس یادیگرمعدنیات دریافت ہوتے ہیں سب سے پہلے اس صوبے کا ان معدنیات پراپنا حق ہوتا ھے ،لیکن بدقسمتی یہ ھے کہ بلوچستان سے نکلنے والے قدرتی گیس سے بلوچستان خود محروم ہے،
صوبہ پنجاب کے شہر DG خان اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر DI خان سے بلوچستان کے سرحدی علاقے لگتے ہیں وہاں سےلیکر صوبہ سندھ کے اور ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی سے ملحقہ علاقے حب چوکی تک بلوچستان پہلاہواھے اور رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ھے، لیکن اگر آپ کوئٹہ سے ضلع موسیٰ خیل کی جانب سفر کروگے ضلع موسیٰ خیل وہ ضلع ھے جسکی سرحدیں KPK اور پنجاب سے ملتی ہیں توجیسے آپکا سفر موسیٰ خیل کی جانب شروع ہوگا صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر اگلاشہر کچلاک ھے جہاں تک آپ اپنی گاڑی میں گیس یعنی CNG بھرواسکتے ہواسکے بعد تقریبآ 500 کلومیٹر تک نہ کوئی CNG اسٹیشن ھے اور نہ لوگوں کے پاس گیس کی سہولت ،
روڈ پر سفر کرنے پر جب دونوں اطراف نظر دوڑائی تو اہل بلوچستان کے پتھر سے تعمیر گھر دونوں اطراف نظرآتے ہیں گھروں کے باہر لکڑیوں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں جوکہ خواتین دور دراز علاقوں سے مویشیوں پر
یا اپنے شانوں پر لاد کر لاتی ہیں، پھر آپ کوئٹہ سے براستہ مستونگ کراچی کی جانب سفر کریں تو وہی حال ہوگا جونظارے جناب نے مشرق کی جانب جاتے ہوئےکیئے تھے وہی مغرب کی جانب بھی ھے،
موجودہ بلوچستان حکومت پر نظر ڈالیں اور آپ سے سوال یہ ھے کہ کیا یہ حکومت منتخب حکومت ھے؟ کیااس حکومت کو بلوچستان کی عوام نے ہی منتخب کیاھے؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں یہ حکومت عوام کی منتخب کردہ حکومت نہیں ھے بلکہ مسلط کردہ حکومت ھے اور بلوچستان کی بربادی کا سبب بھی یہی ھے جب آپ غیر منتخب لوگ پیراشوٹ کے ذریعے اہل بلوچستان پر مسلط کروگے تو صوبے اور اہل صوبے کا یہی حال ہوگا،
آپ ملک کے تمام صوبوں کاچکرلگائیں اور دیکھیں آپ کو اہل بلوچستان مزدوری کی شکل میں دیگر صوبوں میں ملیں گے، مزدوری کوئی عیب نہیں لیکن غربت کے باعث جب انسان اپنا مسکن چھوڑتاھے توجگرپر کیا گزرتی ھے یہ وہ مسافر بہترجانتاھے جس نے جدائی برداشت کی ہو،
ایک جانب جہاں بلوچستان کے معدنیات سے اہل بلوچستان کو محروم رکھا گیاھے تو دوسری جانب انہیں ترقی کے سفر میں زیادتی کا سامنہ ھے،
خدا کیلئے پورے ملک کو انصاف کی آنکھ سے دیکھو آپ نے تو ہمارے لیئے دیکھنے والی آنکھ بھی الگ رکھی ھے ، ہماری آنکھوں پر پٹی تو باندھ لیں پھر ذبح کریں آپ تو کہتے ہوکہ آنکھ بھی کھلی رکھو اور گردن بھی نہ ہلائیں ایسا ظلم نہ کریں زورآور ،
آپ پشاور سے اسلام آباد اور پھر اسلام آباد سے لاھور اور پھر لاھور سے کراچی تک موٹر وے تعمیر کررہے ہو اور مزید تعمیر ہونگی لیکن کہیں یہ اعلان نہیں ہورہا ہے کہ سکھر سے کوئٹہ تک موٹر وے تعمیر ہوگا یا پھر کوئٹہ سے موسیٰ خیل تک اور پھر کوئٹہ سے گوادر یا کراچی تک موٹر وے کو تعمیر کیاجائے گا،آپ بلوچستان کے وسائل کو استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہو لیکن اہل بلوچستان کو یکساں حقوق دینا گناہ کبیرہ سمجھتے ہو،
آپ نے بلوچستان کو گیس سے محروم رکھا ھے، آپ نے بلوچستان کو موٹر ویز سے محروم رکھا ھے ،آپ نے بلوچستان کو صحت کی بہترین سہولت سے محروم رکھا ھے،آپ نے کھیلوں کے حوالے سے بلوچستان میں کتنے گراؤنڈ تعمیر کیئے ہیں،آپ نے سکھر سے کوئٹہ تک ریلوے ٹریک ڈبل کیوں نہیں کیاھے؟ کیا سکھرسے ضلع کچی تک اور پھر کولپور سے کوئٹہ تک بھی آپ ریلوے ٹریک کو ڈبل نہیں کرسکتے ہو، کیا آپ کوئٹہ سے ژوب تک ریلوے لائن نہیں بیچھاسکتے،
کیا آپ بلوچستان کے تفریحی مقامات زیارت ،حنہ جھیل، سپر مر غزانی
کو مزید بہترین تفریح گاہیں نہیں بناسکتے،
کرسکتے ہو لیکن کرتے نہیں، بس ہائے بلوچستان آپکی قسمت،،

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی