اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 300 فیصد جبکہ ملک چلانے والے ملازمین کی تنخواہوں میں صرف دس فیصد اضافہ،ایسے بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،لطیف نظامانی
حیدرآباد (گردوپیش)
وہ اراکین اسمبلی وسینٹ جنہوں نے ازخود اپنی تنخواہوں میں 300%فیصد اورمراعات میں من مانہ اضافہ کرلیا اور کہیں بھی آئی ایم ایف کو شکایت نہیں ہوئی لیکن جب ملک کو چلانے والے سرکاری وغیر سرکاری محنت کشوں کی تنخواہوں وپینشن میں اضافے کی بات آئی تو حاضر ملازمین کیلئے 10%فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کیلئے 7%فیصد فی صد اضافہ کرکے یہی ارکان اسمبلی ڈیسک بجاکر بجٹ کو متوازن قرار دے رہے ہیں ۔ جہاں ملک میں ایسا دوہرا نظام اور ناانصافی کا اطلاق ہو وہ ملک کسی طور ترقی نہیں کرسکتا ۔ہم حکومت کی جانب سے پیش کردہ مالی بجٹ 2025-26ء کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت اور انکی اتحادیوں جماعتوں بالخصوص فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ملازمین کی تنخواہوں وپینشن میں کم از کم 50%فیصد اضافے کو یقینی بنانے میں اپنا مثبت کردار اداکرکے ملک کے محنت کشوں کو جینے کا حق دیں ان خیالات کا ظہار آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی جانب سے لیبرہال حیدرآباد میں مختلف ٹریڈ یونینز کے نمائندہ ہنگامی اجلاس سے فیڈریشن کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے کیا۔ اس موقع پر اجلاس میں APCAکے مرکزی جنرل سیکریٹری اسد درانی، واپڈا CBAیونین کے مرکزی صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان، آل پاکستان نادرا بحالی تحریک کے آرگنائزر رضا خان سواتی، PTUDCکے صوبائی صدر انور پنھور، HDAمہران ورکرز یونین امیر الدین سولنگی کے علاوہ اشرف بوزئی، وکلاء رہنما کیول رام، اعظم خان، محمد حنیف خان، الادین قائمخانی، عابد شاہ، ودیگر رہنمائوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر حکومت کے پیش کردہ، بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے مزدور دشمن اور آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیا جس میں صرف ٹیکسز پر زور دیا گیا ہے اور جو اضافہ تنخواہوں وپینشن میں کیا گیا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح اراکین اسمبلی نے اپنی تنخواہوں میں خود اضافہ کیا ہے اس طرح وہ آئی ایم ایف کی اجازت کے بجائے ملازمین کی تنخواہوں وپینشنوں میں اضافے کا خود فیصلہ کریں،بزرگ پنشنرز کی کم از کم تنخواہ 50ہزار ،ڈیلی ویجز، عارضی وکنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کا اعلان کرکے غیر ہنر مند ملازمین کی تنخواہ کو 37ہزار سے بڑھاکر 50ہزار کی جائے۔ چھوٹے ملازمین کو انکم ٹیکس میں چھوٹ دے کر بڑے بڑے سرمایہ دار ، جاگیردار پر ٹیکس لگا کر خسارہ پورا کیا جائے، قومی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ کرکے جدید اصلاحات لاکر انہیں ملکی مفاد میں چلایا جائے روزگار کے ذرایع پیداکرکے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے۔اگر ان مطالبات کو نہیں منظور کیا گیا تو تمام ٹریڈ یونینز مل کر احتجاج کرینگی



