کالم

بیٹھک سعید آسی

ٹرمپ کی ویڈیو پر بھارتی شردھالوؤں کی جلن۔ گذشتہ روز جی وی این نیوز نامی ایک نیوز چینل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو کلپ کے ساتھ نشر کیا گیا ان کا پیغام وائرل ہوا جس کے اب تک لاکھوں ویورز ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ سب سے پہلے ٹرمپ کی زبان سے ادا ہونے والا یہ پیغام ملاحظہ فرمائیں! “پاکستان آج خوفناک سیلاب کی جس مصیبت میں گھرا ہوا ہے اس کے بارے میں کوئی اور یہ حقیقت نہیں بتائے گا جو میں بتا رہا ہوں۔ پاکستان میں اس وقت جو المناک سیلاب تباہی مچا رہا ہے اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں یا موسلا دھار بارشیں نہیں بلکہ بھارت ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ بھارت نے ناجائز طور پر کشمیر میں دریاؤں پر ڈیمز بنائے اور پاکستان آنے والے ان دریاؤں کے پانی کو اپنے کنٹرول میں کیا۔ یہی پانی اب اس نے پاکستان کی جانب راوی، چناب اور ستلج میں چھوڑ دیا ہے جس سے وہاں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے جو ہر طرف تباہی مچا رہا ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر بتاتا نہیں۔ میں بتا رہا ہوں کیونکہ پاکستان میں یہ تباہ کاریاں دیکھ کر سخت تکلیف میں ہوں۔ اس وقت پاکستان کے سینکڑوں دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہاں ہزاروں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، بیسیوں جانیں ضائع ہوئی ہیں، اور سیلاب میں گھرے لوگ اپنی کھڑی فصلوں سمیت روزمرہ استعمال کی ہر چیز اور زندگی کی ہر سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی زندگیاں کٹھن ہو چکی ہیں۔ صرف اس لیئے کہ بھارت نے دانستہ پاکستان کی جانب پانی چھوڑ کر اسے ڈبونے کی سازش کی ہے۔ بھارت کا یہ اقدام تعاون اور دوستی نہیں بلکہ سبوتاژ ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے اس لیئے میں دنیا کو بھارت کے اس جرم سے آگاہ کر رہا ہوں۔ اس جرم پر دنیا کو بھارت کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیئے۔ پاکستان مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور بہادری سے اس مصیبت کا سامنا کر رہا ہے۔ میں مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوں اور پوری دنیا سے کہتا ہوں کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دے” میں نے ویڈیو میں ٹرمپ کی زبان سے واشگاف انداز میں پاکستان کے حق میں استعمال ہونے اور بھارتی سازشیں بے نقاب کرنے والے یہ الفاظ سنے تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے بھارتی سنگین جرائم کے خلاف ٹرمپ نے پاکستان کے کیس کی وکالت کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ اگر ہمیں اپنے موقف کی حقانیت تسلیم کرانے کی لیئے اتنا مضبوط وکیل دستیاب ہو گیا ہے تو پھر کامیابی ہمارا مقدر ٹھہری اور عالی ہزیمت و رسوائی بھارت کے حصے میں آئی کہ آئی۔ چونکہ ٹرمپ سے منسوب یہ ویڈیو پیغام عین اس وقت منظر عام پر آیا جب چین کے شہر تیانجن میں اس خطے کی ساری قیادتیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیئے ایک پلیٹ فارم پر موجود تھیں اور اس فورم پر بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی سازشوں میں مصروف تھی اس لیئے ٹرمپ کا یہ ویڈیو پیغام مجھے پاکستان کے خلاف بھارتی زمینی، فضائی اور آبی دہشت گردی کا موثر توڑ نظر آیا چنانچہ میں نے بھی وٹس ایپ گروپوں اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع سے پاکستان کے موقف کو مضبوط کرنے والا ٹرمپ کا یہ پیغام پھیلانا ضروری سمجھا۔ اسی دوران ایک صاحب نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پیغام خود ٹرمپ نے جاری کیا ہے؟۔ کیونکہ ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ پیغام کہیں نظر نہیں آیا۔ اس پر سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ شروع ہوا تو کچھ اصحاب نے نشاندہی کی کہ یہ آرٹیفیشیل انٹیلی جینس(اے آئی) کا کارنامہ ہے۔ آج کل اے آئی کے ذریعے سوشل میڈیا پر ٹرمپ مودی، شہباز شریف مودی، اور دوسری عالمی قیادتوں کی مودی کے ساتھ ہتھ جوڑی کی فرضی طور پر بنائی گئی ویڈیو کلپس بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں جن میں مودی کو گرتا، ڈھیر ہوتا اور فرار ہوتا دکھایا گیا ہے۔ یہ ٹرینڈ ایک طرح سے دنیا کی اس سوچ کا اظہار ہے جو بھارت اور اس کی مودی سرکار کے خلاف علاقائی اور عالمی امن کے تناظر میں پنپ رہی ہے۔ اے آئی کے ذریعے پھیلائی جانے والی اس سوچ سے ہٹ کر بھی اگر ہم بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ کے بھارت کے معاملہ میں لب و لہجے اور ان کے اقدامات کا جائزہ لیں تو عملی طور پر بھی ٹرمپ کی بھارتی مودی سرکار کے حوالے سے وہی سوچ نظر آتی ہے جس کا اظہار ان سے منسوب ویڈیو کلپس کے ذریعے ہو رہا ہے۔ کیا وہ پوری دنیا کو بار بار یہ باور نہیں کرا رہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے جس میں چھ جہاز گرے ہیں۔ اور اسی تناظر میں وہ بار بار دنیا کو یہ نہیں بتارہے؟ کہ وہ پاکستان بھارت جنگ بندی نہ کراتے تو پوری دنیا کی تباہی ہوتی۔ اور اسی بنیاد پر کیا ٹرمپ پاکستان کی جنگی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے تسلیم نہیں کر رہے اور بھارت کے خلاف پچاس فیصد ٹیرف بڑھا کر اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کے اعلانات نہیں کر رہے؟۔ اگر پاکستان اور بھارت کے معاملہ میں ٹرمپ کے ان حقیقی اعلانات و اقدامات کی بنیاد پر بھارت کے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے حالیہ اقدامات کے حوالے سے تصور کیا جائے کہ ٹرمپ کا اس پر کیا ممکنہ ردعمل ہو سکتا ہے تو وہ بعینہ وہی ہوگا جو ٹرمپ سے منسوب ویڈیو کلپ میں نظر آرہا ہے۔ چلیں تسلیم کر لیا کہ یہ ویڈیو کلپ اے آئی کا شاہکار ہے تو جتنی تیزی سے یہ ویڈیو وائرل ہوئی ہے، اس پر تو اب تک خود ٹرمپ یا کم از کم واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ ردعمل یا وضاحت سامنے آ جانی چاہیئے تھی۔ اگر اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا تو سمجھ لیجیئے کہ پاکستان میں آبی دہشت گردی کے ذریعے بھارت کی اہتمام کردہ تباہ کاریوں پر ٹرمپ حقیقت میں بھی یہی موقف رکھتے ہیں جو ان سے منسوب ویڈیو کلپ میں موجود ہے۔ کیا حقیقت میں بھی ایسا نہیں ہے کہ ہمارے موذی و مکار دشمن بھارت نے پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی گئی اپنی خفت مٹانے کے لیئے مون سون کی غیر معمولی بارشوں کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ڈبونے کی پوری سازش اور منصوبہ بندی کے ساتھ ستلج، چناب اور راوی میں سندھ طاس معاہدے کو پاؤں تلے روند کر دانستہ طور پر پاکستان کے مجاز فورم کو اطلاع دیئے بغیر بے دریغ پانی چھوڑا ہے اور وہ تسلسل کے ساتھ لاکھوں کیوسک پانی پاکستان کی جانب چھوڑے چلے جارہا ہے جو پنجاب میں تباہ کاریاں مچاتے ہوئےاب سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔ اس سے انسانی زندگیوں کے لیئے جو سنگین مسائل پیدا ہورہے ییں اور آگے چل کر پاکستان کے عوام کے لیئے مہنگائی، قحط اور مزید غربت کی نوبت لائیں گے، ان سے دنیا لاتعلق تو نہیں رہ سکتی۔ سو ٹرمپ سے منسوب ویڈیو کلپ درحقیقت بھارتی جنگی جنون اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف عالمی ردعمل کا ہی اظہار ہے۔ یقیناً ایسے ہی الفاظ میں پاکستان کے ہر فرد، ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی کی جانب سے بھارت کی مذمت ہونی چاہیئے اور دنیا کو ایسے ہی واشگاف الفاظ میں بھارتی چالبازیوں اور مکارانہ عزائم سے آگاہ کیا جانا چاہیئے۔ اگر بھارت کی پاکستان کے خلاف اس ننگی جارحیت کو دیکھ کر بھی پاکستان کے بدخواہ عناصر کو پاکستان کے ساتھ ٹھٹھہ مذاق کی سوجھ رہی ہے اور وہ بھارتی زبان بولنا ہی اپنا اعزاز بنائے ہوئے ہیں تو ایسے عناصر کو بھارت کے چھوڑے گئے پانی میں ہی شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے۔ میں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے انہی جذبات کا اظہار کیا ہے اور بھارتی شردھالوؤں کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا جواب ٹرمپ والے لب و لہجے میں ہی دینے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی عذر اور کوئی مصلحت و مصالحت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی