گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
حیدرآباد(بیورو گردوپیش) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز, افتتاحی تقریب سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد, وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف, ملائیشیا, سعودی عرب, جرمنی سمیت بین القوامی سطح کے اسکالرز کی شرکت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس مین کیمپس میں جاری ہے. کوالٹی آف ایجوکیشن کے مرکزی اور ذیلی عنوانات کے تحت جاری اس کانفرنس میں 150 اسکالرز اپنے مقالات پیش کررہے ہیں جس میں 25 کلیدی محققین ہیں. افتتاحی تقریب سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ایک بہت بڑا اعزاز ہے. بیرون ملک سے اسکالرز کی شرکت ہی کانفرنس کی کامیابی ہے. انھوں نے کہا کہ دنیا ریسرچ کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے. اس کانفرنس کے مقالات اہم ہیں الحمدللہ ہم بھی ریسرچ پیپرز کو سفارشات کی صورت میں پیش کرتے ہیں اس کانفرنس کے مقالات کو اہمیت دی جائے گی. انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں نوجوان آبادی کا 65 فی صد ہیں بس انھیں تربیت کی ضرورت ہے ان شاء اللہ ملک مستقبل روشن ہے. وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طیبہ ظریف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے گورنمنٹ کالج کو 2018ء میں ایکٹ کے ذریعے یونی ورسٹی کا درجہ دیا تھا آج یہ ایک ابھرتا ہوا ادارہ ہے بین الاقوامی ریسرچرز کی آمد مثال ہے. بین الاقوامی کانفرنس کے لیے ہم نے سندھ ایچ ای سی کو منصوبہ دیا تھا سندھ ایچ ای سی نے اس منصوبے کو منظور کرکے جی سی یونی ورسٹی حیدرآباد پر اعتماد کیا ہے. کانفرنس کی سفارشات کی کانفرنس کے بعد پیش کی جائیں گی تاکہ ان سفارشات سے معاشرہ اور متعلقہ ادارے بھرپور فائدہ اٹھائیں.ملائیشیا کی یونیورسٹی میں کلیہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن سے وابستہ ریسرچ اسکالر ڈاکٹر نذریہ بنٹی یحییٰ نے مقالے میں کہا کہ امریکہ, جاپان اور سوئٹزرلینڈ دنیا کے ترقی یافتہ مالک ہیں, وقت اور پیسہ اہمیت رکھتا ہے اس کے ذریعے بہترین خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں انسانی خدمات کے ذریعے جن ممالک نے فائدہ اٹھایا ہے آج وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں, امریکہ, جاپان اور سوئٹزرلینڈ کی اس سمت میں کامیابیاں حاصل کی ہیں.
سابق ڈین الیکڑونکس الیکڑیکل اینڈ کمپیوٹرسسٹم مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جام شورو کے ایمریطس پروفیسر ڈاکٹر شنکر بھوانی (ستارہ امتیاز) نے کہا کہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کا ہمیشہ بنیادی کردار رہا ہے. کمپیوٹر, میڈیسن, الیکڑیکل, الیکٹرونکس, ایجوکیشن ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ گیا ہے. روایتی تعلیم سے پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کا سفر بڑھتا جارہا ہے. روایتی تعلیم سے پیشہ ورانہ تعلیم کی جانب سفر کسی صورت نہیں رکنا چاہیے. انھوں نے کہا کہ وائی فائی کے استعمال سے کون واقف نہیں ہے. وائی فائی کو متعارف کرانے والی بین الاقوامی تنظیم کا رکن ہوں. نوجوانوں کو ایچ ای سی کے ریسرچ پیپرز سے فائدہ اٹھانا چاہیے.کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے بعد مختلف مقامات پر آٹھ سیشن ہوئے ہر ایک سیشن کی صدارت عالمی سطح کے ریسرچ اسکالرز نے کی. اختتامی تقریب دوسرے روز سہ پہر کو مرکزی ہال میں ہوگی چیئرمین ایچ ای سی سندھ پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع ہوں گے



