حیدرآباد کی خبریں

حیدرآباد میں خواتین کی تجارت کے لیے ایک الگ مارکیٹ بنانے کا ارادہ رکھتی ہےکاشف شورو

حیدرآباد(گردوپیش مائیکرو سمال اینڈ میڈیم ٹریڈ کے عالمی دن کے سلسلے میں سندھ میں غربت کے خاتمے کے لیے چھوٹے کاروبار متعارف کرائے گئے ہین۔ جس کی نمائش حیدرآباد کی ایک سماجی تنظیم نے نجی ہوٹل میں منعقد کی۔ جس میں سرکاری اداروں کے نمائندوں اور خواتین سمیت سیاسی، سماجی رہنمائوں اور علاقہ مکینوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر حیدرآباد کاشف شورو نے کہا کہ ضلعی حکومت حیدرآباد میں خواتین کی تجارت کے لیے ایک الگ مارکیٹ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں صرف خواتین ہی کاروبار کرسکتی ہیں، اس سلسلے میں سماجی تنظیمیں اور تجارتی تنظیمیں آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بازار میں گاؤں اور شھری خواتین سلائی کڑھائی سمیت ہر قسم کا کاروبار کر سکیں گی اور انہیں اپنے کاروبار کو شہروں تک پہنچانے کا موقع ملے گا۔ حیدرآباد کے میئر نے مزید کہا کہ اگر حیدرآباد کے ایکسپو سینٹر میں خواتین کی جانب سے شروع کیے گئے چھوٹے کاروباروں کی نمائش بھی منعقد کی جائے تو ضلعی حکومت تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ کاشف شورو نے مزید کہا کہ سندھ کے کاشتکار اپنی زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ ضمنی مصنوعات پر توجہ دیتے ہوئے چھوٹے کاروبار شروع کریں تاکہ ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ ان کی حالت بھی بہتر ہو۔ نجی تنظیم سافکو کے روح رواں سلیمان جی ابڑو نے کہا کہ چھوٹے کاروبار کا عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں کو چھوٹے کاروبار کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی مالی حالت بہتر کر سکیں بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گندم اور دودھ سمیت بہت سی چیزیں دیہی علاقوں سے آتی ہیں لیکن اس سے بننے والی چیزیں صرف شہروں میں بنتی ہیں۔ سلیمان ابڑو نے کہا کہ شہروں میں حکومت کو چاہیے کہ وہ شہروں میں کمرشل مالز کی طرز پر زرعی مالز بنائے، تاکہ وہاں کے باشندے اپنی تازہ مصنوعات یعنی سبزیاں، پھل اور ان سے تیار کردہ مصنوعات ان گوداموں میں فروخت کر سکیں۔ اس سے مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا اور کسان اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے حوالے سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک سے کئی دہائیاں پیچھے ہے اگر اس کی ترقی کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک کی کمی کا مسئلہ پیش آ سکتا ہے۔ ہم وقتاً فوقتاً سیاسی رہنمائوں کو مسائل پیش کرتے رہتے ہین تاکہ اس پر قانون سازی کی جا سکے تاکہ زرعی تجارت کے حوالے سے پالیسی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان نوکریوں کی تلاش میں ہیں وہ حکومت کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھائیں، جس میں ایک لاکھ سے ایک کروڑ تک کے قرضے آسان شرائط پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں تاکہ عوام، صوبے اور ملک ترقی کریں اور ہمارے ملک میں غذائی قلت اور غربت ختم ہو اور ترقی ہو۔ سلیمان ابڑو نے بتایا کہ ان کی سماجی تنظیم سندھ حکومت کے تعاون سے نواب شاہ، سانگھڑ میں 256 گھر بنا رہی ہے جس میں سولر اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو مربوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غربت کا خاتمہ ہو اور ملک میں خوشحالی لائی جا سکے۔ پروفیسر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ کوالٹی، پیکجنگ، قیمت اور تجارت میں فروغ پر توجہ دے کر کوئی بھی پروڈکٹ مارکیٹ میں بہتر مقام حاصل کر سکتی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تربیت کی جائے۔ پراجیکٹ منیجر مصطفیٰ راجپر نے کہا کہ یورپی یونین اور حکومت سندھ کے مشترکہ تعاون سے چھوٹے کاروبار شروع کیے گئے ہیں تاکہ غربت کے خاتمے اور زرعی ترقی کو فروغ دیا جا سکے

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

حیدرآباد کی خبریں

گیس کی لوڈشیڈنگ نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے ہیں ، سرشام ہی گیس کی بندش سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے عمران قریشی

حیدرآباد(گردوپیش) پاکستان تحریک انصاف حیدرآباد کے سینئر رہنما عمران قریشی نے کہا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ نے گھروں کے
حیدرآباد کی خبریں

ہمارا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے سیلاب کے بعد لوگ سخت پریشانی کے عالم میں ہیں جماعت اسلامی جماعت اسلامی حیدرآباد

حیدرآباد(گردوپیش) جماعت اسلامی زون وسطی کے زیر اہتمام الخدمت فاؤنڈیشن ونٹر پیکیج کے تحت جامیہ اسلامیہ ہائی اسکول آڈیٹوریم ہال