حکومت مالی سال 2025/26 کے پیش ہونے والے وفاقی و صوبائی بجٹ میں ملازمین کے تنخواہوں میں صد فیصد اضافہ کرے لطیف نظامانی
حیدرآباد(گردوپیش)
حکومت مالی سال 2025-26ء کے پیش ہونے والے بجٹ میں وفاقی ، صوبائی اور صنعتی ونجی ملازمین کی تنخواہوں وپنشنوں میں صد فیصد اضافے کو یقینی بنائے،ٹیکسوں میں واضح کمی کرکے اشیاء ضروریات کو سستہ کرکے عوام کی دسترس میں لایا جائے، قومی اداروں واپڈا، ریلوے ، پی آئی اے ، تعلیمی اور صحت کے اداروں کی نجکاری کرنے کے بجائے ان میں اصلاحات لاکر عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جائیں واپڈا سمیت دیگر تمام اداروں میں خالی جگہوں کو پُر کیا جائے، کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز ، پارٹ ٹائم ، فکس پیکیج پر بھرتی کیئے گئے ملازمین کو مستقل کرکے قومی اداروں کو مضبوط کیا جائے، دوران ملازمت شہید وطبعی انتقال کرجانے والے ملازمین کی بیوہ ، بچوں کو بھرتیاں ، نادرا یونین پر عائد پابندی کو ختم اور جبری برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔ ان مطالبات کو لیبرہال حیدرآباد میں آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (CBA) ، آل پاکستان نادرا ملازمین بحالی تحریک، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ، آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی جانب سے پری بجٹ 2025-26ء کے حوالے سے منعقدہ لیبر کانفرنس میں مختلف ٹریڈ یونینز کے مرکزی رہنمائوں نے اپنے خطاب میں پیش کیے ۔ کانفرنس کی صدارت واپڈا (CBA) یونین کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے کی جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں APCAکے مرکزی سیکریٹری اسد درانی، PTUDCکے صوبائی صدر انور پنھور، واپڈا یونین کے صوبائی سیکریٹری اقبال احمد خان، HDAمہران ورکرز یونین کے امیرالدین سولنگی، نادرا بحالی تحریک کے رضا خان سواتی، اشرف بوزئی، پرویز بلوچ، وکلاء کی جانب سے کیول رام، اعظم خان، محمد حنیف خان ، غلام رسول میمن، ایسل درس ،عابد شاہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ لیبرکانفرنس سے خطاب میں مقررین نے مزید کہا کہ ایک جانبب حکومت اپنے قومی /صوبائی اور سینٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین کی تنخواہوں ومراعات میں 300%صد اضافہ کرچکی ہے مگر ملک کو چلانے والے محنت کشوں کیلئے اضافے کی بات کی جائے تو ہمیں آئی ایم ایف کی اجازت سے مشروط کیا جاتا ہے جو ہمارے ساتھ کھلا تضاد ہے جسکی مذمت کرتے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹیکسوں کی شرح کم کرکے مہنگائی کو روکا جائے اور تمام وفاقی ، صوبائی ، صنعتی ونجی ملازمین کی تنخواہوں وپنشنوںمیں صد فی صد اضافہ کیا جائے بھرتیاں کھولی جائیں، قومی اداروں کی نجکاری اور مزدور دشمن قوانین کا خاتمہ کیا جائے،اب تک تقریباً 750 اداروں کو نیلام کرکے ادارے تباہ اور مزدوروں کو بے روزگار کیا جاچکا ہے، HDA ملازمین کی رکی ہوئی تنخواہ و پینشن کو عید سے قبل جاری کیا جائے، اگر ہمارے جائز مطالبات کو بجٹ میں شامل نہیں کیاگیا تو تمام یونین مل کر بجٹ کے خلاف احتجاج کرکے اسے مسترد کردینگی۔ مزدور رہنمائوں نے اس بات پر بھی زور دیاکہ کم ازکم حیدرآباد کی تمام مزدور تحریکوں کو چاہیے کہ ایک پلیٹ فارم پر یکساں حیثیت سے جمع ہوکر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کریں تاکہ ہماری آواز قومی و طاقتور ہوجیسے دبایا نہیں جاسکے تب ہی کامیابی حاصل کرسکیں گے اسکے لیے ہمیں عملی جدوجہد درکار ہوگی ۔ صرف لیڈرشپ کو اہمیت نہ دی جائے بلکہ ہم مزدور کاز کو فوقیت دیکر اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ اس موقع پر واپڈا سی بی اے یونین کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی کے جواں سال پوتے عبدالعزیر نظامانی کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کئے گئے ۔ بعدازاں کانفرنس احتجاجی ریلی حیدر چوک تک نکالی گئی جس میں مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حوالے سے سخت نعرے بازی کی۔ کانفرس میں جو دیگر نمائندگان موجود تھے ان میں غلام نبی کھوسو، شفیق بابو، حامد کے کے ، شمیم الدین ، اکرم خان، سید وقاص ، مہر اللہ خان ، احسن خان، ساجد قائمخانی، سجاد قائمخانی، اقرار پھنور ، مدد علی، آصف ظہیر، کاشف صدیقی، محمد علی، زاہد حسین کھوسو، علی محمد خانزادہ، مظفر قریشی، ریاض احمد، اشرف علی، فیصل کے کے بھی شامل تھے۔



