کالم

بیٹھک ،،،سعید آسی

قومی زوال کی نشانیاں۔ میری حتی الواسع کوشش یہی ہوتی ہے کہ جو بدخواہ عناصر کدالیں پکڑ کر اس وطن عزیز کی بنیادیں کھوکھلی کرنے اور اس کا چہرہ بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں انہیں بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کی ودیعت کردہ اس پاک دھرتی کا اُجلا چہرہ اور مثبت پہلو دکھا کر شرمندہ کیا جائے مگر “لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر، کیا کیجئے”۔ ہماری ادارہ جاتی قیادتوں نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ ملک کے اندر اور باہر اس پاک دھرتی کا اچھا تشخص پنپنے ہی نہ دیا جائے۔ سو یہاں قومی اور قدرتی خزانوں کو شیر مادر سمجھ کر چچوڑنے والوں کی بھی خوب افزائشِ نسل ہو رہی ہے۔ ریاستی، انتظامی اختیارات سے بھی آْگے نکل کر مار دھاڑ کرنے، اپنوں کو نوازنے، میرٹ کی عملداری کو ” ایں خیال است و محال است و جنوں” کے قالب میں ڈھالنے اور حق بحقدار رسید کی تضحیک کا اہتمام کرنے کی جنگل والے قانون کے ساتھ اچھل کُود جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے پاکستان رائیٹرز گلڈ پنجاب نے منٹگمری روڈ پر واقع اپنے گلڈ ہاؤس میں وطنِ عزیز کے 78 ویں جشن آزادی میں شریک ہونے کے لیئے آزادی مشاعرے اور تقریبِ تقسیمِ ایوارڈز کا اہتمام کیا جسے کامیاب بنانے کے لیئے گلڈ کی چئیرپرسن محترمہ فرح جاوید، گلڈ پنجاب کے سیکرٹری جنرل بیدار سرمدی صاحب، تقریبات کمیٹی کے کنوینئر نذر بھنڈر صاحب اور گلڈ کے آفس سیکرٹری ظفر اقبال صاحب خاصے سرگرم رہے۔ تقریب کا آغاز ہوا تو کچھ ہی لمحے بعد ہمارے حکمران طبقات کے پختہ کیئے گئے “عذاب کلچر” کی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی صورت میں عملداری شروع ہوگئی جو ڈیڑھ گھنٹے پر محیط اس تقریب کے پورے عرصہ کے دوران جاری رہی چنانچہ سخت حبس، اندھیرے اور گُھٹن کے ماحول میں شعراءکرام پسینے میں شرابور ہو کر وطن کی رفعت و عظمت اور عساکرِ وطن کے مضبوط دفاعی حصار کے گُن گاتے اور قومی اتحاد و یکجہتی کا عزم باندھتے رہے۔ پاکستان رائیٹرز گلڈ ملک کے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کا قدیم ترین نمائیندہ ادارہ ہے جس کی صوبائی تنظیمیں بھی ملک کے چاروں صوبوں میں قائم ہیں۔ لاہور کا گلڈ ہاؤس پاکستان رائیٹرز گلڈ کا مرکزی آفس ہے اور یہ بلڈنگ رائیٹرز گلڈ ہی کے زیرِ ملکیت ہے۔ اصولی طور پر تو حکومت کو قلمکاروں کے اس نمائیندہ ادارے کی خود سرپرستی کرکے اسے عقل و دانش کے حوالے سے ملک کی پہچان اور اہلِ قلم کے شایانِ شان ادارہ بنانا چاہیئے مگر یہ ادارہ فنڈز نہ ہونے کے باعث عملاً بھوت بنگلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ ادارہ اس وقت ملک بھر میں موجود اپنے ارکان کے محض دو سو روپے ماہانہ والے چندہ کے سہارے اپنے اخراجات چلا رہا ہے یا بلڈنگ کے سامنے لان کو پارکنگ ایریا بنا کر اس سے ملنے والا کرایہ گلڈ کے ملازمین اور مستحق شاعروں ادیبوں کے اعزازیہ کے لیئے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے سوا گلڈ کا اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں کہ گلڈ ہاؤس کی تزئین و آرائش کی جا سکے اور یہاں جنریٹر، یو پی ایس یا سولر پینل لگوائے جاسکیں۔ رائیٹرز گلڈ کے ایگزیکٹو ممبر کی حیثیت سے میں جب بھی گلڈ کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں شریک ہوتا ہوں تو مجھے قلمکاروں، دانشوروں کے اس قدیمی نمائیندہ ادارے کی حالتِ زار دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ حکمرانوں کی نظرِ عنایت میں یہ ادارہ کبھی سما ہی نہیں پایا۔ اس کے برعکس کئی گھوسٹ ادارے اور ریشہ خطمی من پسند شخصیات ہر حکمران طبقے کی خصوصی نظرِ عنایت کا ہمہ وقت فیض پاتی رہتی ہیں۔ میں گلڈ کے ہر اجلاس میں گلڈ کے مالی معاملات کے سدھار کے لیئے تجسس کا اظہار کرتا ہوں اور وزیر اعلیٰ پنجاجب مریم نواز صاحبہ سے توقعات باندھتا ہوِں کہ وہ جہاں اہلِ قلم اور فنکاروں سے متعلق دیگر اداروں کی سرپرستی کر رہی ہیں، اسی طرح وہ لاہور کے دل میں موجود گلڈ ہاؤس کی بھی سرپرستی کرکے اس کے لیئے سالانہ فنڈز مختص کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے رائیٹرز گلڈ کی صوبائی ایگزیکٹو کونسل نے مجھے وزیراعلیٰ پنجاب سے گلڈ کے وفد کی ملاقات کا اہتمام کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دیکھیں اب وزیراعلیٰ پنجاب سے اس ملاقات کی کوئی صورت نکل پاتی ہے یا نہیں، میں نے ان کے خصوصی معاون پرویز رشید صاحب کو وٹس ایپ میسج کے ذریعے گلڈ کی مالی مشکلات سے ضرور آگاہ کر دیا ہے۔ حکمرانوں کی غلط بخشیئوں کے قصے تو اب قومی اعزازات کی بندر بانٹ کی شکل میں زبانِ زد عام ہیں اور اب کی بار تو من پسندوں پر نوازشات کی بارش برسانے کی انتہاء ہو گئی ہے۔ گذشتہ ہفتے یومِ آزادی کی قومی تقریب اور اس سے اگلے روز 23 مارچ 2026ء کے قومی اعزازات کے لیئے بالخصوص اہلِ قلم دانشور طبقات، صحافیوں، اینکرز اور فنکاروں کے قومی اعزازات جس دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے مدح سراؤں میں تقسیم کیئے گئے اس پر بندر بانٹ والا محاورہ بھی شرمندہ شرمندہ سا نظر آیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نوازشات تو ہر دورِ حکومت میں ہوتی ہیں۔ تو کیا ان غلط بخشیئوں پر اسی جواز کے تحت سرِ تسلیم خم کر لیا جائے۔ مجھے تو ذاتی طور پر ایسے کسی قومی اعزاز کی کبھی تمنا نہیں رہی اور نہ ہی کبھی اس کی خواہش یا لابیئنگ کی۔ میں اس ایشو پر قلم اٹھانے سے بھی اس لیئے گریز کرتا ہوں کہ کہیں نہ سمجھ لیا جائے کہ میں کسی قومی ایواڈ کے لیئے اپنے استحقاق کا اظہار کر رہا ہوں۔ تاہم گذشتہ دنوں میری نظر پنجابی ادب کی مسّلمہ شخصیت سابق ڈائریکٹر جنرل پلاک ڈاکٹر صغریٰ صدف کے فیس بک پیج پر لگائی گئی ان کی ایک پوسٹ پر پڑی تو مجھ سے رہا نہ گیا چنانچہ میں نے بھی ایسی غلط بخشیئوں پر آواز اٹھانا ضروری سجھا ہے تاکہ بندر بانٹ کرنے والوں کو نہیں تو کم از کم وصول کرنے والوں کو ہی کچھ “لجّا” آجائے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف کی اس تجویز سے میں سو فیصد متفق ہوں کہ ہر سیاسی جماعت اپنے رطب اللسانوں کو ان کی قصیدہ گوئیوں پر نوازنے کے لیئے پارٹی کی سطح پر فنڈز مختص کردے مگر ان کی خاطر قومی خزانے کو ہرگز ناجائز تصرّف میں نہ لایا جائے جس پر پہلے ہی اصحابِ اقتدار و اختیار اور منتخب ایوانوں کے “غریب و نادار” ارکان کے اللّے تللّوں والے استحقاق کا ناروا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ بے شک قومی ایوارڈز کمیٹی میں کسی حکومتی ادارے کی کسی شخصیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیئے اور اس کے ارکان متعلقہ شعبوں کے نمائیندہ اداروں میں سے ان اداروں کی ایگزیکٹو باڈیز کی منظوری کے ساتھ لیئے جانے چاہیئں۔ مگر یہاں تو رائٹرز گلڈ جیسے نمائیندہ ادارے ہی نظر انداز ہو رہے ہیں، غلط بخشیئوں کے عہد میں حق بحقدار رسید کی کیونکر توقع کی جا سکتی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر صغریٰ صدف کی فیس بک پوسٹ میں درج الفاظ بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ متعلقین کو آبرو مندی کا راستہ سجھائی دے سکے۔ “اصولاً 23 مارچ کو دیئے جانے والے ایوارڈز کو ختم کر دینا چاہیئے، جب تک کوئی سخت طریقہ کار فالو نہیں کیا جاتا۔ حکومت میں بیٹھے کچھ لوگوں نے اسے مذاق بنا دیا ہے۔ ریاستی ایوارڈز میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے۔ پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ لائف ٹائم اچیومنٹ ہوتی ہے۔ اس بار لسٹ میں تعلیم، صحافت اور دیگر شعبوں میں ایسے کتنے نام ہیں جو روٹین کی نوکری کر رہے ہیں، کوئی کمال نہیں کر رہے۔ ایسے لوگوں کے لیئے سیاسی جماعتوں کو اپنے پلیٹ فارم پر ایوارڈز کا سلسلہ شروع کرنا چاہیئے۔ ریاستی ایوارڈز کی بے توقیری نہ کریں۔ سفارشی بابوں اور فیصلہ سازوں کو شرم بھی نہیں آتی ویسے۔”

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی