پشاور سانحہ پشاور ۱۰ اضلاع میں صف ماتم شہدا کی تعداد ۱۰۰سے زیادہ
پشاور نیوزڈیسک: پشاور کی پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے مبینہ خود کش دھماکے میں شہداء کی تعداد ۱۰۰ہوگئی، 157 زخمی لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیاگیا
گردوپیش نیوز ڈیسک خبرایجنسیاں حکام کے مطابق مسجد کے ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے کے لئے آپریشن تاحال جاری ہے جب کہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا جارہا ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ آپریشن کب تک مکمل ہوسکےگا، سلیبس کو ہائیڈرولک کٹر کی مدد سے احتیاط سے کاٹا جارہا ہے تا کہ اگر کوئی اندر پھنسا ہوا ہے تو اس کی جان بچائی جاسکے جب کہ سنسر ڈیوائسز لگا کر زندہ افراد کو چیک کیا جا رہا ہے۔
پولیس لائنز دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے علاقے صدر پولیس لائنز میں نماز ظہر کے دوران خودکش حملہ کیا گیا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا۔
اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی چینل پر بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حملہ آور ایک، دو دن سے وہیں رہ رہا تھا،
سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز میں ہونے والا واقعہ بظاہر خودکش حملہ لگتا ہے، ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو، پولیس لائنز میں ایف آر پی،ایس ایس یو، سی ٹی ڈی سمیت 8 سے زائد یونٹس کے دفاتر ہیں، یہ بھی امکان ہے حملہ آور کسی سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر آیا ہو۔




