مظاہر نقوی مس کنڈکٹ کا مرتکب ہواہے سپریم جوڈیشنل کونسل رائےکوچینج کرتاہوں مظاہرنقوی
حیدرآباد(گردوپیش ویب ڈیسک: سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برطرف کرنے کی سفارش کر دی۔
اعلامیہ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز پر الزامات لگا کر ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججزنے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ججز کا موقف ہے کہ بے بنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ بے بنیاد الزامات کا جواب دینے سے شق 5کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 6 مختلف شکایات کا جائزہ لیا، 6 میں سے 5 شکایات میں ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس پرکونسل کارروائی کرے۔
کونسل نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف شکایت پر جج کو نوٹس جاری کیا ہے اور نوٹس کا جواب جمع کرانے کے لیے 14 دن کا وقت دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر نقوی کے خلاف 9شکایات کا جائزہ لیا، ان شکایات کا جائزہ آئین کے آرٹیکل 206کی شق (6) کے تحت لیا گیا، مظاہر نقوی ان شکایات میں مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے، مظاہر نقوی کو جج کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے سابق جج مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق جج مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں انہیں مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سابق جسٹس مظاہر نقوی نے کہا ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ہے جس کا حصہ بننے سے میں نے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ قانون جج کے استعفی دینے کے بعد انکوائری جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، صدر نے میرا استعفیٰ تسلیم کر لیا تھا جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا۔




