آبیانہ دہائیوں سے ایک جیسا چل رہا ہے سیڈا چیئرمین قبول شاہ
حیدرآباد (گردو پیش) سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (سیڈا) کے چیئرمین قبول محمد کھٹیان نے کہا ہے کہ آبپاشی کا ٹیکس آبیانہ دہائیوں سے ایک جیسا ہے جس میں آبپاشی کے نظام پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے سیڈا بورڈ کے 57ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سیڈا کے چیئرمین نے کہا کہ آبپاشی کے پانی کا ٹیکس آبیانہ دہائیوں سے ایک جیسا چل رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت آبپاشی کے نظام پر زیادہ خرچ کر رہی ہے اور وصول کم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بل کم ہونے کے باوجود مکین پابندی کے ساتھ ادائیگی نہیں کرتے۔انہوں نے تینوں ایریا واٹر بورڈز کے ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ پانی کے بلوں کی وصولی میں تیزی لائی جائے اور ہر بل میں بقایا جات واضح طور پر لکھے جائیں تاکہادائیگی نہ کرنے والے کاشتکار کو احساس ہو کہ اسے بقایاجات ادا کرنی ہین۔ انہوں نے سیڈا کی جانب سے آبیانی کی وصولی کے لیے الیکٹرانک بلنگ کے کام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ای بلنگ کے تمام اعداد و شمار جلد تیار کیے جائیں اور اس کام کو عملی طور پر شروع کیا جائے تاکہ آبیانی کی وصولی کو بہتر بنایا جا سکے۔ سیڈا کے منیجنگ ڈائریکٹر پریتم داس نے کہا کہ آبیانی کی وصولی میں سب سے بڑی رکاوٹ سزا اور جزا کا فقدان ہے۔ نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ آبیانہ وصول کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد کم ہے اور ان کے پاس جمع کرنے کے لیے ایک بڑا رقبہ ہے، لیکن ملازمین کی تعداد میں اضافے سے بھی آبیانہ جمع کرنے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جب تک کہ جمع کرنے کا نظام ٹھیک نہ ہو۔ ابیانی کی وصولی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیڈا ابیانی کی وصولی کے لیے الیکٹرانک بلنگ سسٹم لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ جس پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔ ایم ڈی سیڈا نے، ٹرانزیشن کے جنرل مینیجر غلام مصطفیٰ کو ہدایت کی کہ الیکٹرانک بلنگ کے لیے درکار تقاضوں کو پورا کر کے دو ہفتوں کے اندر سسٹم کو نافذ کیا جائے۔ ایم ڈی سیڈا نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کو پورے سندھ میں آبیانہ بڑھانے کے لئے سمری بھیجی جائے گی۔ پراجیکٹ کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ یونٹ (پی سی ایم یو) کے کوآرڈینیٹر نذیر عیسانی نے کہا کہ آبیانہ کے ریٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے، اگر فنانس بورڈ آف ریونیو سے رپورٹ کی جائے تو سیڈا کے علائقے مین وصولی بھتر ہے لیکن اسے اب بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ سیڈا کے جنرل منیجر ٹرانزیشن غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ الیکٹرانک بلنگ کے لیے تین ایریا واٹر بورڈز میں سے ایک ایک سب ڈویژن کا انتخاب کیا گیا ہے اور اس کے نمبرز کمپیوٹرائز کیے جا رہے ہیں۔ جن کی کل تعداد 35 ہزار ہے جس میں سے 25 ہزار کاشتکاروں کی تفصیلات کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہیں جبکہ 10 ہزار پر کام جاری ہے۔ نارا کینال ایریا واٹر بورڈ کے چیئرمین حاجی علی مراد راجڑ نے کہا کہ ملازمین کی کمی کے باعث آبیانہ جمع نہیں ہو رہا۔ ایک ابدار کے پاس رکوری کے لئے بہت بڑا رقبہ ہے۔ ملازمین کی تعداد بڑھائی جائے تو آبیانی کی ریکوری بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زمینداروں سے ریکوری کی جارہی ہے تاہم صنعتی صارفین سے پانی کی وصولی کم ہے جس میں بھی تیزی لائی جائے۔آبادگار کے رکن میر مقبول ٹالپر نے کہا کہ گھریلو صارفین اور صنعتی صارفین کے اعدادوشمار الگ الگ ہونے چاہئیں. سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (SWAT) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر میر غلام علی تالپور نے کہا کہ SWAT ایک 6 سالہ منصوبہ ہے، جس میں اکرم نہر کی بحالی اور نہر کی جدید کاری شامل ہے، جس میں اکرم نہر کی بحالی کے کام کیے جائیں گے۔جنرل منیجر آپریشن جئے رام موٹوانی کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے جی ایم کی تقرری تک 6 ماہ کے اسٹاپ گیپ میں توسیع دی جائے گی، عدالت کے حکم سے محکمہ آبپاشی کی زمین پر پیٹرول پمپ کی زمین نیلامی کے ذریعے لیز پر دی جائے گی، نئے آڈیٹرز کی تقرری کی جائے گی۔ دوران ڈیوٹی۔متوفی اور ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کے بجٹ کی منظوری سمیت اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے آغاز میں ممبران نے نئے چیئرمین قبول محمد کھٹیان کو خوش آمدید کہا اور سابق چیئرمین انجینئر عبدالباسط سومرو کی خدمات کو سراہا,



