کالم

اور عشرت العباد کی واپسی

رضوان احمد گدی

ایک دوست نے لکھا کہ جدید دور میں سوشل میڈیا پر جو جھوٹ بیچا جا رہا ہے تو سوچتا ہوں کہ تاریخ میں کتنا جھوٹ مکس ہے یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طبقہ نے اپنی سیاست کے لئے سوشل میڈیا پر کس طرح پوری قوم کو گمراہ کر دیا اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر کہاں لگا دیا پاکستان کی بدقسمتی کہ یہاں ہر طاقتور اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے وہ ملکی مفاد میں فیصلے تو کرتے ہیں لیکن مستقبل کا ادراک نہیں کرتے کہ قوم کے لئے کیا بہتر ہے جنرل باجوہ صاحب کی 2016 میں ڈاکٹرائن آئی کہ اب جنگ روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ففتھ جنریشن وار ہو گی جس میں دشمن قوتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے انکی عوام اور افواج کے حوصلے پست اور گمراہی کے لئے کام کرنا اور وطن میں آئی ٹی و سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے لوگ پیدا کئے جائیں جو وطن عزیز میں بغیر ہتھیاروں کے سوشل میڈیا، میڈیا کے ذریعے ملک دشمنوں کے خلاف کام کریں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے وزیراعظم عمران خان ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کے ساتھ اندورن و بیرون ملک ایک نیٹ ورک تشکیل دیا جو پاکستان میں فوج کے امیج کو بہتر کرنے اور انکے ہر مخالف کو چور ڈاکو لٹیرا ملک دشمن ثابت کرے یہ وہ کام کرتے کرتے اپنا اصل کام یعنی ملک کو صیح راہ پر ڈالنا چھوڑ کر ان کے حواری خود بھی لوٹ مار اور نااہلی کے باعث 2021 میں ملک کو دیوالیہ کے قریب پہنچا دیا تحریک عدم اعتماد کے بعد جب پی ڈی ایم کو حکومت ملی تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑے جو ن لیگ کی سیاست کو دفن کرنے کا باعث بنے دوسری طرف فوج کے یو ٹرن کے باعث یعنی عمران خان کی حکومت اور حمایت ختم کرنے کی وجہ سے اور پی ڈی ایم دور میں مہنگائی کے باعث یہ ہی سوشل میڈیا بریگیڈ جو تیار کیا گیا تھا اس نے ملک کے قومی سلامتی اداروں کی بینڈ بجا دی اور عوام وہ تو سدا سے مولا جٹ اسٹائل سیاست پسند کرتی ہے عمران خان کی جارحانہ تقاریر و رویئے کے باعث مقبولیت کو چار چاند لگ گئے پاکستان کے دشمنوں نے جب دیکھا کہ پاکستان کی مضبوط فوج اور آئی ایس آئی جسے وہ خواہش کے باوجود نقصان نہیں پہنچا سکے تھے اب عمران خان انہیں للکار رہا ہے تو انہوں نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا عدلیہ میں ثاقب نثار کے دور سے باقاعدہ پلاننگ کے تحت اپنے مرضی و ہم خیال ججز کو سپریم کورٹ لایا گیا اور مرضی کے فیصلے لئے جاتے رہے بعد میں عمران خان کی حکومت جانے کے بعد بھی یہ ججز حمایت میں کمربستہ رہے اور یہ مضبوط جال بن گیا جو بڑوں کی لڑائی کے باعث آج کا پاکستان بن گیا بظاہر لگتا ہے کسی کو عوام کی فکر نہیں ہے اب آتے ہیں کراچی کی سیاست کی طرف جو اس صورتحال سے جڑی ہے پیپلز پارٹی سولہ سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور اب کراچی، حیدرآباد بلدیہ جو چالیس سال سے کبھی پی پی کے پاس نہیں رہی اب مئیر بھی ان کا ہے لیکن پیپلز پارٹی اس تمام مضبوطی کے باوجود کرپشن، تعصب اور نااہلی کے باعث سندھ کے شہروں میں جگہ نہیں بنا سکی 2016 میں ایم کیو ایم بانی قائد کے بعد و دیگر عوامل کے باعث کمزور و تقسیم ہوئی اور اس موقع پر مسلسل 14 سال گورنر سندھ رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد اپنا کردار ادا کرتے اور مہاجر قوم کی دادرسی کرتے لیکن وہ اس برے حالات میں اپنی محسن جماعت ایم کیو ایم کو بیج منجدھار میں چھوڑ کر چلے گئے بعد ازاں آصف زرداری و پیپلز پارٹی سے رابطے میں رہے اب پیپلز پارٹی کبھی نہیں چاہئے گی کہ سندھ کے شہروں میں کوئی ایک مضبوط پارٹی انکے خلاف ہو کیونکہ کمائی و مفادات تو شہروں سے ہی وابستہ ہیں اس لئے پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اسٹیبلشمنٹ کا پروجیکٹ ہے اور اسٹیبلشمنٹ ابھی عمران خان سے الجھی ہوئی ہے تو وہ موقع کا فائیدہ اٹھا کر ایم کیو ایم پاکستان کو ڈسٹرب و کمزور کرے ایم کیو ایم پاکستان میں بھی قیادت کے معاملے میں اختلاف موجود ہے چھبیسویں آئینی ترمیم پر ایم کیو ایم کا جو کردار اور سندھ کے شہروں و شہریوں کے لئے جو کچھ لینا چاہیے تھا وہ نہیں لیا گیا اور پارٹی کا کردار جاندار نہیں تھا اس پر سوالات اٹھے اور ووٹرز میں مایوسی ہوئی مخالفین نے یہ تاثر عام کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن چکی جسے کراچی حیدرآباد کے عوام سے کوئی سروکار نہیں تو اسی وقت بیرونی فنڈڈ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تاثر زبان زدعام کیا جا رہا ہے کہ اب الطاف حسین کو واپس لایا جا رہا ہے ایسی باتیں پہلے بھی بہت وثوق سے کی گئیں لیکن حقیقت نہیں بن سکیں دوسری طرف آصف زرداری کے قریبی دوست و سابق گورنر سندھ نے بھی اچانک سیاست میں سرگرمی دکھائی اور اجلاس شروع کر دئیے حالانکہ گزشتہ دنوں کراچی میں انکے بھائی سابق رکن قومی اسمبلی اسرار العباد کا انتقال ہوا وہ میت میں نہیں پہنچے بتایا گیا کہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب ہیں حالانکہ عمرہ ایک دن میں مکمل ہو جاتا ہے لیکن وہ واپسی کے لئے مضبوط گراؤنڈ و ضمانتوں کے بعد آنا چاہتے ہیں اس لئے وقت کا انتظار کر رہے ہیں اصل میں پاکستان میں اکثریتی عوام کو وہی مولا جٹ اسٹائل والی سیاست پسند ہے جو عمران خان ،علی امین گنڈا پور اور ماضی میں بھٹو صاحب الطاف حسین کر چکے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی سیاست میں کچھ لوگ بن جاتے ہیں اکثریت تباہ ہو جاتی ہے خیر ایم کیو ایم پاکستان کی واحد جماعت ہے کہ جس نے پاکستان کے اندر اپنے قیام کے بعد جارحانہ انقلابی سیاست کی یہ قائد سے لیکر عام کارکن تک نوجوان طبقہ تھا جنہوں پر ظلم کا بھی الزام لگا لیکن انہوں نے وہ مظالم سہے جس کا دوسری جماعت تصور بھی نہیں کر سکتی ایم کیو ایم نے ریاستی آپریشن،پھانسی، ماورائے عدالت ہلاکتیں، طویل قیدیں، جلاوطنی، غداریاں اور ناجانے کیا کیا ظلم برداشت کئے سب سے بڑا اپنے بانی قائد جس کے پیچھے سب تھے پاکستان مخالف بیانیہ و نعرے پر چھوڑا اور اپنی قوم و ملک کے لئے بچھی کچھی قیادت کھڑی ہوئی اب تمام کے انضمام کے بعد جدوجہد جاری ہے اور انشاء اللہ اتنا سب کچھ برداشت کرنے کے بعد موجودہ صورت حال کو بھی برداشت کریں گے اور متحد منظم ایم کیو ایم سندھ کی سب سے بڑی شہری جماعت ہے اور وقت ثابت بھی کرے گا کہ یہ ہی شہری مسائل کا ادراک اور حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے

girdopesh

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

گرتی ہو ئی دیوار
کالم

گرتی ہو ئی دیوار
میرا کالم
لالہ مرزاخان
سناتھاانسان کو فائدہ اور نقصان اپنی زبان سے ہوتاہے،میری خیال میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہی کچھ ہوا ہے،ساڑے تین سال سے زائد عرصہ اقتدار پرفائض ہو نے والے کپتان نے بڑی شان سے گزارے ،بال آخرپارٹی میں زہریلے جراثیم پھلتے گئے،کچھ وزیروں مشیروں کی زبانیں زہراگلنے لگی کچھ اپنے ساتھ بے وفا نکلے
بالکل اس شاعر کی طرح :
کچھ شہردے لوگ وی ظالم سن
کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی
بال آخر اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع مل گیا اور وہ میدان میں اترآئیں ،اپوزیشن کی جماعتیں جوکہ ماضی میں ایک دوسرے کے درپے تھی لیکن عمران خان کے مشیروں وزیروں کی زبانوں نے انہیں متحد کیا ماضی کے دشمن مستقل کے دوست بن گئے،یہ الگ بات ہے کہ عمران خان حکومت نے کسی جماعت کو نہیں بخشاتھاتمام کے خلا ف کیس چل رہے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رہی کثر عمران خان کے مشیروں نے پوری کر دی،عمراخان نے جہاں دیگر پارٹیوں کے رہنماﺅں کے خلا ف احتساب کا نعرہ لگایا تھا وہاں انہوں نے اپنے پارٹی کے ساتھیوں کوبھی نہیں بخشایہ انکی ایمانداری تھی یاں نااہلی یہ الگ بات ہے،یہی وجہ تھی کی پارٹی کے لوگ بھی کپتان سے خاصے ناراض تھے،دوسری جانب عمران خان کے اتحادی جماعتیں بھی عمران خان کی پالیسیوں سے زیدہ متاثر نہیں تھی اور انکے ساتھ کئے گئے وعدے بھی وفانہیں ہو ئے تھے اس لیئے عمران خان کی اتحادی جماعتیں بھی باربار عمران خان کواپنے تحفظات سے آگاہ کر رہی تھی،جب کپتان نے کسی کی نہیں سنی تو پھر ہونا وہی تھا جو ہوگیا،اپوزیشن کی جماعتوں کو موقع مل گیا اورانہوں نے جہاں کپتان کی سیاسی اتحادیوں سے رابطے کیئے وہاں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان اسمبلی سے بھی رابطے کیئے اوراپوزیشن جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں،سابق وزیراعظم عمران خان کے خلا ف ایوان میں عدم اعتماد پیش کیاگیا اور174ووٹ مخالفت میں پڑے اور عمران خان کو گھر روانہ کردیا،عمران خان نے اسلام آباد کے جلسے میں ایک مراسلہ لہرایاعمران خان اور پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اس مراسلے میں پاکستان کے اندرونی معا ملات میں مداخلت کی گئی ہے تاہم انہیں سازش نظر نہیں آرہی ہے ،سازش کی تشریع کا عمل جاری ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوسکاہے،پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اس مراسلے کو لسی کے مٹکے میں ڈال دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انکی لسی بن جا ئے اورانہوں نے ملک کے تین صوبوں (کے پی کے)(سندھ )اورپنجاب میں بڑے بڑے جلسے کیئے اور ان جلسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی عوام نے شرکت کی اور کپتان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،کپتان نے جہاں باربار امریکی مراسلے کا ذکر کیا وہاں انہوں نے اسٹبلشمنت سے بھی مطابات کیئے کہ ان تمام مسائل کا حل صرف اتخابات ہیں،ملک میں فو ری طورانتخابات کرائے جا ئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ عوام کس کے ساتھ ہیں، اسکے ساتھ ساتھ کپتان نے قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے تمام ارکان کے استیفیٰ جمع کرادیئے ہیں اور یہ استعفے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے پاس جمع ہو گئے تھے جو کہ منظوری کیلئے تیارہیں،تاہم اس میں کچھ لوگ استیفوں والی بات پر راضی نہیں ہیں اورکل ملاکر سننے میں آرہا ہے کہ 123ارکان اسمبلی نے استعفے جمع کرائیں ہیں،کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال ہے کہ تحریک انصاف کو استعفے نہیں دینے چاہئے جبکہ کچھ کاخیال ہے جب وہ موجودہ حکومت کو ہی نہیں مانتے تو اپوزیشن کے بینچوںپر بیٹھ کر وہ کس کی مخالفت کریں گے اور کس حکومت پر تعمیری تنقید کریں گے ،
اب بڑھتے ہیں عمران خان کے ساتھ ہو نے واہے اصل مسئلے کی جانب ،تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں الیکشن کمیشن میں رپورٹ جمع کرائی گئی ہے،جس میں درخواست گزار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے 2013 کے دوران 12 ممالک سے 73 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد فنڈز اکھٹے کیے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں،اکبر ایس بابر نے سنہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی، الیکشن کمیشن میں ابھی تک اس درخواست پر 80 سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں،14اپریل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب فارن فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنائے،اب الیکشن کمیشن روزانہ کی بنیادوں پرسماعت کررہی ہے،کپتان نے موقف اختیار کیاہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنی ہے توپھر وہ دیگر جماعتوں کی سماعت بھی ساتھ میں کرے اوراس حوالے سے انہون نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا ہے،گزشتہ دنوں کپتان نے پر یس کانفرنس کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدارنہیں رہا اس لیئے مستفی ہو جائے اورساتھ میں پارٹی ایم این اے،ایم پی اے اور کارکنان سے تیار رہنے کو کہاہے کہ وہ جلد اسلام آباد کی کال دیں گے،تمام باتیں ایک طرف میراذاتی خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلا ف آئے گا جس سے کپتان اور انکی جماعت کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ،اوراس بات کا خطرہ بھی ہے اگر ایسا ہواتو تحریک انصاف کے کارکنان کاکیا درعمل ہوگا ،اللہ ہمارے پیارے وطن پر اپنا خصوصی کرم کرے ،

کالم

“کس کی جیت کس کی ہار”(اقبال پرویز خان)حالیہ ضمنی انتخابات میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے یہ انتخابات پی