حیدرآباد میں سندھ یونیورسٹی کا بس ڈرائیورکوگولی لگنے سے جاں بحق
حیدرآباد گردو پیش حیدرآباد میں سندھ یونیورسٹی کے بس ڈرائیور کو غلام علی ولد مٹھوکوسٹی کے قریب نامعلوم افراد نے گولی مار کرشدید زخمی کردیا زخموکے تاب نے لاتے ہو ئے ہسپتال میں دم توڑ گیا
زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بس ڈرائیورکو پیٹ میں گولیاں لگی اور انہیں زخمی حالت میں ایک رکشہ ڈرائیور چھوڑ کرگیاتھا ،ڈرائیورکو گولی لگنے کا واقعہ پولیس اسٹیشن بلدیہ کے حدودمیں پیش آیا ہے
پچاس سالہ بس ڈرائیور غلام علی گن ولد مٹھو گن کا تعلق جام شورو سے بتایاجارہاہے
دوسری جانب ترجمان جامعہ سندھ جامشورو نادر علی مغیری نے یونیورسٹی کے پوائنٹ بس ڈرائیور غلام علی گن کے حیدرآباد میں قتل کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ غلام علی گن کے قتل پر وائس چانسلر پروفیسر (میریٹوریس) ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو اور رجسٹرار ڈاکٹر غلام محمد بھٹو سمیت پورا ادارہ سوگوار ہے۔ یہ انتہائی بدقسمت واقعہ ہے کہ طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی لے آنے کیلئے سرکاری بس چلانے والے ڈرائیور کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر وائس چانسلر کی ہدایات پر رجسٹرار و ٹرانسپورٹ انچارج سمیت مختلف افسران حیدرآباد اسپتال پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ انتظامیہ لواحقین کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہے اور ان کے ساتھ مکمل قانونی تعاون کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کی واقعے کے محرکات کیا ہو سکتے ہیں، تاہم تفتیش کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر و رجسٹرار واقعے پر افسردہ ہیں، تاہم وی سی ڈاکٹر کلہوڑو نے ٹرانسپورٹ انچارج میہر علی قاضی کو لاش آبائی گاﺅں پہنچانے اور تدفین ہونے تک ورثاءکے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایات بھی کی ہے۔



